میرا بس چلے تو اس حکومت کو ایک دن بھی نہ چلنے دوں

سکھر میں تحفظ ختم نبوت ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت، آج ایک نام رہ گیا ہے اور موجودہ حکمران کسی بھی طور پر قوم کے نمائندے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں لیڈر وہی ہوتا ہے جو یوٹرن لیتا ہے، کٹھ پتلی کو پاکستان پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرا بس چلے ایک دن بھی اس حکومت کو چلنے نہیں دوں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان اقتصادی طور پر عالمی مالیاتی اداروں کا غلام بن چکا ہے لیکن ہم پاکستان کو امریکا اور مغرب کی کالونی نہیں بننے دیں گے۔

مولانا خادم رضوی گرفتار، بھر پور مزاحمت کرنے کی تاکید

تازہ ترین خبروں کے مطابق مولانا خادم کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اس دوران خبر آئی ہے کہ تحریک لبیک کے امیر مولانا خادم کو گرفتار کر لیا گیا ہے

دوسری جانب تحریک کی جانب سے اپنے پیروں کاروں اور عوام سے بھر پور مزاحمت کرنے کی تاکید کی گئی ہے

جنرل باجوہ کو دھمکیاں دینے کا برا انجام، مولانا خادم کے خلاف آپریشن شروع، سخت مزاحمت

جنرل باجوہ کو دھمکیاں دینے کا برا انجام، مولانا خادم کے خلاف آپریشن شروع، سخت مزاحمت

شان رسول میں گستاخی کے مرتکب آسیہ مسیح کی رہائی کے خلاف ہونے والے دھرنے کی رہنمائی کرنے والے مولانا خادم حسین رضوی کے خلاف آپریشن شروع ہو گیا ہے.

مولانا خادم حسین رضوی نے دھرنے کے دوران فوج کے افسران سے آرمی چیف جنرل باجوہ کو خلاف بغاوت کا کہا تھا.

اسی دھرنے کے دوران مولانا خادم نے چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کو ساتھی ججوں کو سور کہتے ہوے قتل کی دھمکی دی تھی.

لندن میں مصروف جسٹس ثاقب نثار نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہہ آنے والے دنوں میں مولانا خادم حسین رضوی کا انجام دیکھیں گے

ممتاز صحافی سید طلعت حسین نے سوشل میڈیا پر خبر دی ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنان کیخلاف پنجاب میں کریک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران تحریک لبیک کی اعلی قیادت اور درمیانی درجے کی قیادت کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ رات کے اندھیرے میں شروع ہونے والے اس آپریشن کے دوران بعض جگہوں پر مزاحمت کی خبریں آ رہیں ہیں.

چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 دہشتگرد ہلا

سیکیورٹی فورسز نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 3 حملہ آوروں کو ہلاک کرکے ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور اسلحہ برآمد کرلیا، کارروائی میں 2 پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی بھی ہوا۔

اسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں دیگر 2 افراد بھی جاں بحق ہوئے، تاہم حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔پولیس کے مطابق قونصل خانے کا تمام چینی عملہ بالکل محفوظ ہے اور صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے کے قریب 3 دہشت گردوں نے چینی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم گارڈز کے روکنے پر انہوں نے فائرنگ کردی، جس پر قونصلیٹ پر تعینات سیکیورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی، اس دوران دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔

پولیس چیف کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کرکے ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کرلیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی بھی ہوا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی تصدیق کی کہ ملزمان کی جانب سے کیے گئے ابتدائی حملے میں قونصلیٹ پر تعینات 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ کو زخمی حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ترجمان پولیس کے مطابق چینی قونصلیٹ پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت اے ایس آئی اشرف داؤد اور پولیس کانسٹیبل عامر کے نام سے ہوئی۔

جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اسپتال کے سرد خانے میں 7 لاشیں موجود ہیں، جن میں 3 دہشت گرد، 2 پولیس اہلکار اور دیگر 2 افراد شامل ہیں۔اسپتال ذرائع کے مطابق واقعے میں جاں بحق ہونے والے دیگر 2 افراد کے شناختی کارڈز پر کوئٹہ کا پتہ درج ہے، جو باپ بیٹا ہیں اور چینی قونصل خانے میں ویزہ لگوانے آئے تھے۔

جناح اسپتال کے ایڈیشنل پولیس سرجن اعجاز کھوکھر کے مطابق مردہ حالت میں لائے گئے افراد کے سر میں گولیاں لگی ہیں جبکہ ان کے جسم سے چھرے بھی نکالے گئے ہیں۔

دوسری جانب حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی گارڈ جمن خان کو جناح اسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے جسم کے نچلے حصے پر گولی لگی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق حملہ آور گاڑی میں سوار ہوکر آئے تھے، جنہوں نے گاڑی کچھ دور کھڑی کی اور پھر قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہ قونصلیٹ کے کمپاؤنڈ میں داخل نہیں ہوسکے۔

پولیس چیف کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔
پولیس چیف کے مطابق حملہ آوروں کے زیر استعمال گاڑی تحویل میں لے لی گئی جبکہ ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

ترجمان رینجرز کرنل فیصل اعوان نے بھی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چینی قونصلیٹ کے باہر 35 اہلکار ہر وقت ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں، دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے دہشت گردوں کو روکا۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد ویزا کمپاؤنڈ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم کوئی بھی حملہ آور کمپاؤنڈ میں داخل نہ ہوسکا، حملے کے وقت چوکی میں موجود اہلکاروں نے قونصلیٹ کاتحفظ کیا اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اطراف میں واقع دیگر سفارتخانوں کا بھی تحفظ کیا۔

کرنل فیصل اعوان کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں 2 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، واقعےکی اطلاع ملتے ہی رینجرز کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں، رینجرز اہلکار نجم الدین کی فائرنگ سے ایک دہشتگرد ہلاک ہوا جبکہ باقی 2 دہشت گردوں کو بھی کمپاؤنڈ کے باہر ہلاک کردیا گیا۔

نہوں نے مزید بتایا کہ چینی قونصل خانے کا ڈپلومیٹک اسٹاف مکمل طور پر محفوظ ہے اور دہشت گرد حملےکی مزید تحقیقات جاری ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق رینجرز اور پولیس نے مل کر دہشت گردوں کی چینی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش ناکام بنادی۔آئی ایس پی آر کے مطابق تینوں حملہ آور مارے گئے، قونصل خانے کا چینی عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی اور علاقے کا محاصرہ کرلیا۔
دوسری جانب تمام داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرکے قونصلیٹ کی طرف جانے والی ٹریفک روک دی گئی۔

ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کی سربراہی میں پولیس کی ایک ایڈوانسڈ پارٹی جبکہ رینجرز کی نفری بھی قونصلیٹ میں داخل ہوئی اور کلیئرنس کارروائی کے بعد صورتحال پر مکمل قابو پالیا گیا۔کراچی پولیس چیف کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا، جائے وقوع کے قریب سے ایک مشکوک گاڑی بھی ملی ہے۔

دی مواد کو ناکارہ بنا دیا۔دوسری جانب ہیلی کاپٹرز کی مدد سے علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں چینی قونصلیٹ کے باہر حملے اور فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔وزیراعظم نے چینی قونصلیٹ پر حملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے کے پیچھے موجود عناصر اور محرکات کو فوری بے نقاب کیاجانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ پاک چین معاشی اور اسٹریٹیجک تعاون کے خلاف سازش ہے، لیکن اس طرح کے واقعات دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے۔ پاک چین دوستی ہمالیہ سےبلند اور سمندروں سے گہری ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعدی کے ساتھ دہشت گرد حملہ ناکام بنایا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چینی قونصل خانے پر حملے کا نوٹس لے کر ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔دوسری جانب مراد علی شاہ کا چینی قونصل جنرل سے ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے قونصل جنرل کو ہر ممکن سیکیورٹی اقدامات کی یقین دہانی کروائی۔

واقعے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں چینی قونصلیٹ پر حملے کو دہشت گردوں کا بزدلانہ عمل قرار دیا۔شاہ محمود قریشی نے چینی قونصلیٹ پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قونصلیٹ پر حملے کی کوشش کرنے والے تینوں حملہ آور مارے گئے، حملے کے وقت 21 چینی شہری قونصلیٹ میں موجود تھے جو تمام محفوظ ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سندھ پولیس اور رینجرز بروقت موقع پر پہنچی اور حملے کو ناکام بناتے ہوئے علاقے کو کلیئر کردیا۔

شہبازشریف کے میڈیکل کی رپورٹ آ گئی ، خون کے تجزیے میں کینسر کی علامات ظاہر

نیب حکام کی جانب سے شہبازشریف کے گلے میں تکلیف کے باعث ان کا معائنہ کروایا گیا تھا جس دوران خون کے تجزیے میں کینسر کی علامات ظاہر ہوئی ہیں ۔ جس کے بعدشہبازشریف کا باقاعدہ علاج شروع کر دیا گیا ہے ۔

ڈاکٹروں نے شہباز شریف کو فوری سی ٹی سکین کرانے کا مشورہ دیا ہے، شہباز شریف ماضی میں سرطان کے مرض سے صحت یاب ہوئے تھے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرطان کے مریضوں میں مرض دوبارہ ظاہر ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔

 یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ دیر قبل کراچی میں واقع چین کے قونصلیٹ میں دہشتگردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے اور چینی قونصلیٹ کا تمام عملہ محفوظ ہے ۔

آئی ایس آئی سمیت سب ریاست کے ملازم ہیں، سپریم کورٹ کا سخت مکالمہ

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل حاضر نہیں ہوئے تو جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اٹارنی جنرل ریاست کے ملازم ہیں وزیراعظم کے نہیں ۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا کیس میں ریمارکس دیئے کہ کیا وزیر اعظم سپریم کورٹ سے بالا ہیں؟

اٹارنی جنرل کی عدم حاضری پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا کہا کہ اٹارنی جنرل ریاست کا سب سے بڑا لاء افسرہے یا وزیراعظم کا ذاتی ملازم؟

عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا اٹارنی جنرل ماہر معاشیات ہیں ، ای سی سی کے اجلاس میں ان کا کیا کام؟

اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم کو بتانا چاہیے تھا کہ انھیں عدالت میں پیش ہونا ہے۔ اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم سے معذرت کرنی چاہیے تھی۔

وزیر اعظم نے اٹارنی جنرل کو کہا اوروہ منہ اٹھا کر چل دیئے، ہم اٹارنی جنرل کے خلاف آبزرویشن دیں گے ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے.

جسٹس قاضی فائز عیسی نے مزید ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل، ججز سمیت ہر کوئی ریاست کا ملازم ہے.

ٹی وی چینلز کی دھرنا کوریج پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیا یہ آزادی رائے ہے، دنیا کہاں پہنچ گئی اور پاکستان کہاں کھڑا ہے.

جسٹس قاضی فائز کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی پیمرا پر اتنے پیسے کیوں خرچ کیے جاتے ہیں، کیا یہ پاکستان ہے، ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کون سی قوتیں چینلز چلا رہی ہے، اگر کوئی ایسی قوت ہے تو وہ غدار ہیں

عدالت نے کہا کہ کیا یہ آزادی ہے، کس لیے آزادی حاصل کی تھی، پاکستان جنگ سے نہیں آئینی قوت سے بنا تھا.

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ لیاقت علی، قائداعظم اور میرے والد تحریک آزادی کا حصہ تھے، آزاد پاکستان میں خوف سے نہیں جئیں گے، ہم نے ملک کیساتھ کیا کردیا،اور عدالت میں کیا کررہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہم حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، پیمرا کو جو شکایت آتی ہے کم از کم اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا سے کہا کہ آپ تو پرانے بیوروکریٹ ہیں،اگر میں کہوں میرا چینل نہیں چل رہا تو کیسے وضاحت کریں گے، مفت میں حاصل ہونے والی چیز کی قدر نہیں کی جاتی، اپنے حکام سے پوچھیں کتنی ایڈوائیزری آرہی ہے.

جسٹس قاضی فائز کا سیکرٹری الیکشن کمیشن سے مکالمہ

جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیے کہ کتنے دن پاکستان بند رہا، آپ کے ڈی جی لاء نے کہا آپ کا قانون مصنوعی ہے

اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہہ الیکشن کمیشن کا قانون مصنوعی نہیں

جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیا کہہ آپ کو اس حوالے سے تحریری جواب جمع کرانا ہوگا

جسٹس قاضی فائز کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ اور سخت سوالات

کیا آپ نے آئی ایس آئی کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ پڑھی، رپورٹ پڑھ لیں سوالوں کے جواب دینا ہونگے

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہہ اس رپورٹ میں حساس چیزیں ہیں، رپورٹ کا جائزہ چیمبر میں لیا جائے

جسٹس قاضی نے کہا کہہ رپورٹ میں کچھ حساس نہیں

جسٹس قاضی فائض عیسی نے کہا کیا اٹارنی جنرل وزیر اعظم کے ملازم ہیں؟

اٹارنی جنرل کہہ دیں کہ وہ وزیراعظم کے ملازم ہیں۔

کیا اٹارنی جنرل کا یہ قدم مناسب ہے؟

کیا وزیراعظم قانون سے بالاتر ہیں؟

کیا وزیراعظم نے کہا کہ سماعت ملتوی کر دیں؟

کیوں نہ پھر عمران خان کو بلا کر پوچھ لیں؟

نجی چینلز کی شکایات پر پیمرا نے کیا اقدامات کئے؟ پیمرا قانونی تقاضے مکمل کرے

چیئرمین پیمرا کو سامنے لائیں تاکہ وہ بھی سن لیں۔

کیا پیمرا نے خط لکھنے کے علاوہ کوئی ایکشن لیا؟

گزشتہ سماعت میں چیئرمین پیمرا نے کہا تھا کہ 50 ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔

چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہہ قانون کے مطابق کیبل آپریٹرز کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ قانون کے مطابق متعلقہ اتھارٹی کو 10 لاکھ تک بھی جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ابھی تک کسی بھی چینل کا لائیسنس منسوخ نہیں کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہہ اس کا مطلب کہ پیمرا نے کچھ بھی نہیں کیا۔ کیا ہم کنٹرولڈ میڈیا اسٹیٹ میں رہ رہے ہیں ۔

جسٹس قاضی فائض عیسی نے کہا کہہ پاکستان اور ریاست کا مذاق نہ بنائیں۔ پیمرا پر ایک بلین خرچ ہو رہے ہیں اور پیمرا کو چینلز کی بندش کا نہیں پتہ۔

جھوٹ، جھوٹ اور جھوٹ اور کسی کو شرم محسوس ہی نہیں ہو رہی۔ کیا چیئرمین پیمرا کو اپنے آپ پر فخر محسوس ہونا چاہیئے۔ آپ پاکستان کے عوام اور ریاست کے کام کرنے کیلئے ہیں۔ کیا جن چینلز پر تعریف ہوتی ہے بس وہی چل سکتے ہیں؟

کیا تمام لوگوں کو ریاست کی وفاداری ہاتھ میں لینے کی اجازت دے دی گئی ہے، ایک حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے الیکشن کمیشن کو مزید اختیارات دیئے گئے.

اٹارنی جنرل نے کہا کہہ الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے، اگر ریاست یہ تعین کرے کہ سیاسی جماعت غیرملکی فنڈنگ لے رہے ہیں تو اس پر کاروائی ہو سکتی ہے.

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا پہلے کچھ کہا جا رہا تھا اب کچھ کہا جا رہا ہے، یہ بات کہی جا رہی ہے کہ قتل تو ہوا لیکن قاتل کا ذہنی توازن درست نہیں تھا،الیکشن کمیشن کی طرف سے اپنایا گیا موقف تو پارٹی کے دفاعی وکیل کو اپنانا چاہئے تھا.

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہہ سالانہ اکاونٹس کی تفصیلات اور انتخابی مہم کے اخراجات میں فرق ہے، قانون میں انتخابی مہم کی تفصیل فراہم نہ کرنے پر کاروائی کیلئے کوئی شق نہیں اور الیکشن کمیشن قانون کی شق 212 سالانہ اکاونٹس سے متعلق ہے

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا قانون کے ساتھ مذاق نہ کریں.

اٹارنی جنرل نے جواب دیا بد قسمتی سے یہ قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے.

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا پارلیمنٹ پر الزام عائد نہ کریں. ہم مسلسل اور ہر وقت مقننہ کی بالادستی کو نیچا دیکھا رہے ہیں

کیا شریف لوگ ملک چھوڑ کر چلے جائیں؟

ملک سے ہجرت کر جائیں؟

پاکستان بننے میں ایک گولی بھی نہیں چلی، پاکستان بنانے میں تمام کام کاغذاتی طور پر اور زبان کے دم پر کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہہ انتخابی نشان کے بغیر انتخابات میں حصہ نہیں لیا جا سکتا۔

جسٹس قاضی فائض عیسی نے استفسار کیا ایک اوورسیز پاکستانی سیاسی جماعت بنا سکتا ہے؟

کون سے پاکستانی بغیر ویزا کے ملائیشیا جا سکتے ہیں ؟

پاکستان اور ملائیشیاءکے درمیان ویزوں کے جزوی طور پر خاتمے کے معاہدے پر دستخط کر لیے گئے ہیں اور اس حوالے سے ملائیشیاءکے میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق سفارتکاروں اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا درکار نہیں ہوگا ۔

ضرور پڑھیں:عمران خان کی ’دشمنی‘ میں ریحام خان سب حدیں پار کر گئیں

نجی انگریزی ویب سائٹ ’ دی نیوز ‘ کی رپورٹ کے مطابق جزوی طور پر ویزا فری کرنے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور سرکاری سطح پر روابط کو مزید وسیع بنانا ہے ۔

پاکستان اور ملائیشیاءکے درمیان ویزوں کے جزوی خاتمے کے معاہدے پر دستخط وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ملائیشیاءکے وزیر داخلہ تان سری داتو حاجی محی الدین نے کیے جبکہ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان اور ان کے ہم منصب مہاتیر محمد بھی موجود تھے ۔ جزوی طور پر ویزا کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط وزیراعظم عمران خان اور مہاتیر محمد کے درمیان ملاقات کے بعد کیے گئے ۔

ملائیشیاءکے میڈیا کا کہناہے کہ جزوی طور پر ویزا کے خاتمے کے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے سفارتکار اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ملائیشیاءجانے کیلئے ویزہ درکار نہیں ہوگا جکہ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ۔

عمران خان کی ’دشمنی‘ میں ریحام خان سب حدیں پار کر گئیں

وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان علیحدگی کے بعد سے مسلسل اپنے سابق شوہر کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ پر ریحام خان کی جانب سے بھرپور تنقید کی جاتی ہے لیکن اس مخالفت میں شاید وہ یہ بنیادی بات بھول گئی ہیں کہ یہ سکرین شارٹس کا زمانہ ہے۔ آپ سوشل میڈیا پر کوئی بھی بات کرتے ہیں تو اس کے سکرین شارٹ فوری کہیں نہ کہیں محفوظ ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ریحام خان نے اب کی بار عمران خان پر تنقید کی تو ان کے اس وقت کے سکرین شارٹ سامنے آگئے جب وہ عمران خان کی بیوی ہوا کرتی تھیں۔

خاتون سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شمع جونیجو نے عمران خان کی ختم نبوت ﷺ کانفرنس سے خطاب کی ویڈیو کا چھوٹا سا حصہ شیئر کیا جس میں عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تاریخ کی کسی کتاب میں ذکر نہیں ہے۔ خاتون نے عمران خان کی اس بات پر ان پر کڑی تنقید کی اور انہیں احمق قرار دیا۔ یہاں یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ عمران خان کی یہ ویڈیو صرف 13 سیکنڈ کی ہے یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے خطاب کو متنازعہ کرنے کیلئے سیاق و سباق ہٹا کر ان کی اس بات کو پیش کیا جارہا ہے حالانکہ انہوں نے جب یہ بات کی اس وقت وہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیات کا موازنہ کر رہے تھے۔

شمع جونیجو کے ٹویٹ کے جواب میں ریحام خان نے الزام عائد کردیا کہ عمران خان نے قرآن پاک بھی نہیں پڑھ رکھا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ” میں نے آپ کو بتایا تھا کہ عمران خان نے قرآن پاک بھی نہیں پڑھ رکھا اور یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی تاریخ کی کتاب بھی نہیں پڑھ رکھی ۔ اور عمران خان وہ وزیر اعظم ہیں جن کا اسلامی تشخص ہے“۔

پاکستان کابیٹا ہوں ،اس مٹی کاذرہ ذرہ مجھے پیارا ہے

سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ سٹیل ملز نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کابیٹا ہوں اور اس مٹی کاذرہ ذرہ مجھے پیارا ہے،میں نے ملکی حالات بدلنے کیلئے جوکیااسے اللہ کافضل سمجھتا ہوں،سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلئے ہرطرح کی قربانی دی،میرا 40سال کا کیرئیر بے داغ ہے، مجھے ناقابل تلافی نقصان ہوا،آپ اورآپ کی عدالت سے انصاف کی امید ہے۔

سابق وزیراعظم نے اپنی گزشتہ حکومت کی 5 سال کی کارکردگی سے جج کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موٹروے کا جال بچھا ہے، ہماری حکومت نے5سال میں جوکام کئے اس کی نظیر 70سال میں نہیں ملتی،نوازشریف نے کہا کہ بوری بند لاشوں والے کراچی کوامن دیا،مردم شماری،لوڈشیڈنگ کاخاتمہ اوردہشتگردوں کوللکارا،ان کا کہناتھا کہ اقوام متحدہ میں کشمیرکامسئلہ اٹھایا،2013 کے مقابلے روشن پاکستان دیا۔

نوازشریف نے کہا کہ شاید پاکستانی تاریخ میں ایسااحتساب کسی کاہواہو،ساری نسلیں کھنگالنے کے بعدبھی کرپشن کا ثبوت نہیں،سارامعاملہ مفروضوں پرمبنی تھا،مفروضوں کے ثبوت نہیں ہوتے،قائد ن لیگ نے کہا کہ ایک پیسے کی کرپشن ،کک بیکس،منی لانڈرنگ کاثبوت لانا تودرکنارالزام تک نہیں لگایاگیا،

مفروضوں کی بنیاد پرمقدمات کہاں تک چل سکتے ہیں؟مجھے زبردستی بچوں کے کاروبار سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، دوران تفتیش کاروباری معاملے میں گڑبڑکے ثبوت نہیں ملے،سابق وزیراعظم نے کہا کہ جج صاحب آپ سے بہترکون جانتاہے آمدن سے زائداثاثوں کاالزام کب لگتاہے،آمدن سے زائداثاثوں کاالزام اس وقت لگایاجاتاہے جب کرپشن کاثبوت نہ ملے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار رنگے ہاتھوں گرفتار

 غیر سیاسی ہونے کا اعلان کرنے والے چیف جسٹس ثاقب نثار لندن میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ یاراں نبھاتے کیمرے کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں گرفتار ہو گئے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی لندن آمد پر تحریک انصاف کے رئنما عمران خان کے جگری دوست انیل مسرت اور پارٹی کے دیگر سپورٹرز نے ائیرپورٹ پر ان کا والہانہ استقبال کیا.

ٹھرکی چیف جسٹس ثاقب نثار نے بے شرمی کی انتہا کر دی

عمران خان کےدوست انیل مسرت نےثاقب نثار اور اہل خانہ کو پروٹوکول دیا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس موقع پر تحریک انصاف کے سپورٹرزسے پرائیوٹ خطاب کیا.

سوشل میڈیا پر چیف جسٹس ثاقب نثار کی لندن میں ڈنر کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں جن میں ان کے ساتھ بزنس مین انیل مسرت بیٹھے ہیں ۔

سوشل میڈیا صارفین نے ان تصاویر پر سوال اٹھائے ہیں اور پوچھا ہے کہ لندن دورے میں چیف جسٹس اور ان کے اہل خانہ کا میزبان کون ہے؟

واضح رہے کہ چیف جسٹس اپنے بیٹے نجم ثاقب کی گریجویشن تقریب میں شرکت کیلئے لندن گئے ہیں ۔ انیل مسرت کو تحریک انصاف کا فنانسر اور عمران خان کے قریب سمجھا جاتا ہے ۔ دوسری جانب انیل مسرت کی تصاویر آرمی چیف کے ساتھ بھی ماضی میں وائرل ہو چکی ہیں ۔