تحفظ موومنٹ اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے.

مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میران شاہ کے قریب دتہ خیل میں دھرنا دینے والے قبائلی افراد اور سیکورٹی اہلکاروں میں تلخی کے بعد ہاتھا پائی ہوئی۔

سیکورٹی ذرائع سے دی جانے والی خبر کے مطابق پی ٹی ایم کارکنوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کی جوابی کارروائی میں کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔

بعض غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ادھر سیکورٹی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ علاقے میں موجود ہیں اور لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔

علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیو میں لوگوں کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے کارروائی کی ہے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

سینئر صحافی سید شاہ رضا شاہ کے مطابق شمالی وزیر ستان میں ایم این اے محسن داوڑ اور علی وزیر کے قافلے پر فائرنگ ہوئی جس میں محسن داوڑ سمیت 25 افراد زخمی ہو گئے ہیں. علی وزیر گرفتار ھونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہیں ہیں تاھم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ھوسکی- واضح رہے کہ دونوں ایم این ایز شمالی وزیر ستان میں منعقدہ دھرنے کیلئے جاررہے تھے

اردو ورلڈ نیوز کو حاصل ہونے والی غیر مصدقہ معلومات کے مطابق چارسدہ کے علاقے علی جان کلی میں تین بھائیوں کے قتل کے خلاف عمرزئی چوک میں اہلیان علاقہ کا احتجاج جاری ہے۔ لواحقین نے لاشوں کو سڑک پر رکھ کر ٹریفک کو بند کر دیا. مظاہرین کا وزیراعلی اور آئی جی سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ دوسری جانب مظاہرین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہہ اعلی افسران کے آنے تک احتجاج جاری رہیگا.

اطلاعات کے مطابق اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر اتوار کی صبح ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لئے قافلے کی صورت میں تحصیل دتہ خیل جا رہے تھے۔ جب قافلہ ‘خڑ کمر’ کی چیک پوسٹ کے قریب پہنچا تو مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز نے انہیں آگے جانے سے روک کر گیٹ بند کر دیا۔ جس پر لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔

محسن داوڑ کے سیکرٹری رحیم داوڑ نے بتایا کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہو گئی جس سے متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔ رحیم داوڑ کے مطابق محسن داوڑ اور علی وزیر کو فائرنگ کے اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

فائرنگ کے بعد رکن اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں خیبر پختونخوا پولیس نے پشتون تحفظ تحریک کے رہنماوؑں کو درپیش سیکورٹی خطرات کے پیش نظر ان کی سیکورٹی بڑھا دی تھی۔ حکام نے پی ٹی ایم کے متعدد رہنماوؑں کو حملوں کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے محتاط رہنے اور اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اتوار ہی کو پولیس نے اسلام آباد میں پی ٹی ایم کی خاتون رہنما گلالئی اسماعیل کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی تھی۔

گلالئی اسماعیل پر عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کراچی میں پشتون شہری نقیب اللہ محسود کے مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے بعد وجود میں آئی تھی اس کے سربراہ منظور پشتین ہیں۔

پی ٹی ایم قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ، جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنے کے مطالبات کرتی آئی ہے۔

افواج پاکستان کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کو دی گئی مہلت اب ختم ہو گئی ہے۔