وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی لندن میں موجود جائیداد کی تحقیقات کیوں نہیں ہو رہیں؟ شہزار اکبر بوکھلا گئے

عادل شاہ زیب نے اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوے معاون خصوصی براے احتساب شہزار اکبر سے پوچھا کہہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی لندن میں موجود جائیداد کی تحقیقات کیوں نہیں ہو رہیں؟تفصیلی خبریں چھپ چکی ہیں لیکن کاروائی نہیں ہو رہی، سیلیکٹو احتساب؟ کیوں ہو رہا ہے؟

اس پر بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ فیصل واوڈا کے نیب میں تحقیقات جاری ہیں۔کسی کے پاس مزید ثبوت ہیں تو نیب کو دے سکتے ہیں یا الگ درخواست بھی دے سکتے ہیں۔

شہزاد اکبر کا جواب دیتے ہوے صحافی فخر درانی نے کہا شہزاد اکبر کی اطلاع کے لیےعرض ہےکہ واوڈا کی جائیدادوں کےتمام تر کاغذات برطانوی حکومت سے ہم نے باقاعدہ فیس ادا کرکے حاصل کیے۔کیونکہ تمام تر پراپرٹیز واوڈا نے بیچ دیں یاکسی اور کےنام ٹرانسفر کر دیں۔ اس لیے موجودہ ملکیت کسی اور کے نام پر تھی۔ہم نے موجودہ ملکیت کے کاغذات بھی نکلوائے۔

اور ان جائیدادوں کی historical ownership بھی نکلوائی۔ جس سے ان تمام پراپرٹیز کی واوڈا کی ملکیت نکلی۔ صحافی کا کام خبر دینا ہے نیب یا کورٹ میں جانا نہیں۔ جس نے نیب کے پاس یا کورٹ یا الیکشن کمیشن جانا ہے وہ جائے۔ ہاں اگر کسی کو باقاعدہ تصدیق شدہ یہ کاغذات چاہیے وہ رابطہ کر سکتا ہے۔

دوسری طرف انہوں نے عادل شاہ زیب کے تعریف کرتے ہوے کہا کہہ سلیوٹ ہے عادل شاہ زیب کوجنہوں نے سینسرشپ کوچیلنج کرتے ہوئےفیصل واوڈا کی منی لانڈرنگ ٹیکس چوری اورجائیدادیں خفیہ رکھنے کے معاملے کو اٹھایا۔پاکستان میں اب بھی صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھ کر صحافت کرنے والےلوگ موجودہیں۔امید ہے دوسرے اینکرحضرات بھی ان کو فالو کریں گے۔