تیل کیوں نہیں نکلا؟، آئی ایس آئی ناکام، سازش میں کون کون شریک؟

پاکستان میں ایسے ایسے ہیرے موجود ہیں کہہ اگر آپ انھیں دیکھیں یا سنیں تو آپ خودکشی سے کم کیا رکیں…

جو کام پاکستان کی نمبر ١ خفیہ ایجنسی نہ کر سکی وہ کام سوشل میڈیا پر ایک درد مند پاکستانی نے کر دکھایا.

آفندی نے اندر کے باتیں بتاتے ہوے کہا کہہ

”اٹلی کی جو کمپنی کیکڑا کے مقام پر ڈرلنگ کررہی تھی اسکا سربراہ راجند کمار مودی کا قریبی پارٹنر بتایا جارہا ہے . حکومتی ادارے اس کوشش میں ہیں کہ آیا ستائیس فروری کے بعد اچانک کیا ہوا کہ مکمل معلومات کےباوجود تیل کامطلوبہ ذخیرہ نا مل سکا .

مارچ انیس میں ایران نے باقائدہ پاکستان کو خبردار کرلیا تھا کہ امریکی و یورپ ہارپ ٹیک کے ذریعے تیل کھینچ کر لےجاسکتےہیں زمین کے دوسرے کنووں کی طرف ، انہی کمپنیوں نےپہلے معلومات دیں تھیں کہ پاکستان کےاس علاقے میں وسیع ذخائر موجود ہیں .

اپریل اٹھارہ کو ایک طاقتور پاکستانی ادارے کے سربراہ نے باضابطہ چور پر وزیراعظم کو باخبر کیا تھا کہ امریکی ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے بحیرہ ارب میں کچھ پراسرار حرکات کررہے ہیں . یہاں یہ بات قابل غور ہےکہ انہی دنوں میں حکومت کو نوازشریف کو ضمانت پر رہا کرنا پڑا.

تحریک انصاف کے کچھ وزرا کےمطابق عالمی طاقتیں نہیں چاھتیں کہ پاکستان ابھرتی ہوئی معیشت اور تیل سے مالامال ملک بنے . اس مقصد کیلیے منصوبہ یہ بنایا گیا کہ نوازشریف کو رہاکرواکے دوبارہ قابض کیا جائے کیونک عمران خان انکی راہ میں رکاوٹ تھا . وزیراعظم کوبتایاگیا تھاکہ ذخائر موجودہی

اچانک کیا ہوا کہ ذخائر ہی نا ملے . جانننے والے بتاتے ہیں کہ عمران خان کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی کہ نوازشریف کو رہا کیا جائے . لیکن وہ نا مانے .وہ ملکی دولت کھاجانے والوں کو معاف کرنےپرہرگزتیار نہیں ہیں . اسکےفورا بعد اٹلی کی کمپنی کا وفد بھارت و امریکہ کےدورےکرتا ہے

انہی دوروں کے بعد اچانک کچھ امریکہ ماہرین کو کیکڑا کےمقام پر لگادیا گیا .. حکومتی اداروں نےبروقت وزہراعظم کو مطلع کیا لیکن تب تک دہر ہوچکی تھی . اس سلالےمیں ایران نےباضابطہ طورپرپاکستان کو آگاہ کیا کہ امریکہ ہارپ ٹیک کےذرہعے تیل کےذخائر اس جگہ سےاترائی کےذریعے منتقل کررہے

یکم مئی کو ایران کا دو رکنی وفد پاکستان کا دورہ کرتا ہے .کچھ خفیہ ملاقاتیں ہوتی ہیں . یہ دورہ خفیہ رکھا گیا . حکومت کو بتایا گیا کہ انکےڈرونز نے بحرمردار اور نہرسویزمیں عالمی طاقتوں کی کچھ ایکٹیویٹیز نوٹ کی ہیں . اورانکےمطابق امریکی ہارپ ٹیک کےکیکڑا کےمقام پر تیل کوکھینچ رہےہیں

حکومت نے نوازشریف کو رہا کرنےکا فیصلہ کرلیا تھا کہ ملکی مفاد کیلیے کڑوا گھونٹ پینا ضروری تھا لیکن مشترکہ دوست ملک کےذریعے بتایا گیا کہ ساتھ ساتھ امریکی اڈے بھی سمندرمیں بنانےکی اجازت دیجائے . حکومت نےسخت ردعمل کا اظہار کیا.

سترہ مارچ کو ایک امریکی وفد جارج ہیڈلے کی سربراہی میں کھدائی کرنےوالی اٹالین و امریکی کمپنی کےسربراہ سے سویزلینڈ میں ملا . اس ملاقات کی خبر پاکستان کو دیرسے ہوئی . قرین کیاجارہاہےکہ جس لیبارٹری سےتیل کی ٹیسٹنگ ہوگی اسکوخریدکیاجائے اورکہاجائے کہ تیل مطلوبہ مقدار میں نہی یے

وزارت پتڑولیم کےارکان حیران ہیں کہ گیس و تیل کےوسیع ذخائر ملنے کے اچھے خاصے امکانات تھے . امریکی ماہر سر جان شیفرڈ نےاپنی تحقیقات سےخودحکومت کو مطلع کیا تھا کہ ان ذخائر کی مالیت روس سعودیہ ایران کےمشترکہ مالیت سے بھی زیادہ ہے.

اس قسم کی رہورٹس دیکھ کر روس امریکہ وینزویلہ سب کی نیندیں اڑ گئیں تھیں کہ پاکستان ایک بر پھر ایشین ٹائیگر بن سکتا یے. سازش کے تحت پاکستان کا نام ایے اےٹی ایف میں ڈالا گیا .
ڈان لیکس ،اداروں کےخلاف بیان بازیاں سب اس سازش کی کڑیاں ہیں

اس مقصد کیلیے سمندرپار کچھ پاکستانیوں کو بھی خریدا گیا .کہ وہ اس سلسلے میں مایوسی پھیلائیں گے . اور حکومتی دعوں کا مذاق اڑائیں گے .
حکومتی اراکین خاموش نہیں ہیں وہ مکنل رابطےمیں ہیں اورجلدہی مستقبل کالائحہ عمل بنادیا جائے گا

تیل و گیس کے ذخائر جہاں ملنے کی بھرپور امید تھی اور ہے وہاں ایک سازش کے تحت چونا بھر دیا گیا . اب وہاں چونا ہی ملا ہے . وزیراعظم عمران خان سخت پریشان ہیں آج بھی انکو پیغام دیےجارہےنامعلوم ذرائع سے کہ نوازشریف کورہا کردیں زردار کومعاف کردیں تویہ ذخائرمل سکتےہی

عمران خان کو اس سلسلےمیں اسدعمرنے قائل کرنے کی کوشش بھی کی تھی جسکے فورآ بعد اسدعمر کق ہٹادی گیا تھا . عمران خان کا کہنا تھا کہ گھس کھالیں گے لیکن نوازشریف ودیگر چوروں کو نہیں چھوڑیں گے .

اس سلسلے میں محترمہ خاتون اول نے چلہ بھی کیا تھا.انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ اگر نوازشریف و دیگرکو رہا کیا جائے تو آپکی وزیراعظم شپ کیلیے مشکلات ختم ہوسکتی ہیں .انہوں نے جواب دیا کہ میں کٹ سکتا ہوں لیکن جھک نہیں سکتا.
میں لات مارتاہوں ایسی وزیراعظم شپ پر جسکیلیےملک کوبھیچناپڑے”