خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری جیل سے باہر آ گئے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی درخواست ضمانتوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر 10 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو پانچ پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

یاد رہے کہ انھیں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گذشتہ برس نومبر میں املاک کو نقصان پہچنانے، لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ملک بھر سے 1800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔

نومبر میں آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف موت کی سزا کے فیصلے کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لیبک پاکستان کے کارکنوں کی طرف سے ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نومبر 2017 میں سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دورِ حکومت میں جب اس جماعت کے کارکنوں نے فیض آباد پر دھرنا دیا تھا تو اُس وقت بھی اس جماعت کی قیادت، خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت درجنوں افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس وقت یہ جماعت ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنی۔

آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں ان کی جماعت کی جانب سے تین دن تک ملک بھر میں مظاہروں کے ساتھ ساتھ خادم حسین رضوی کے ٹوئٹر ہینڈل سے سے مسلسل ٹویٹس جاری ہوتی رہیں جس میں پنجاب اسمبلی کے سامنے کارکنان سے دیے گئے خطاب کی ویڈیوز اور پیغامات شامل ہوتے تھے۔

ان ٹویٹس کے جواب میں کئی لوگوں نے شکایت کرتے ہوئے ٹوئٹر کی انتظامیہ اور اس کے بانی سے مطالبہ کیا کہ ان کا اکاؤنٹ بند کیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ ہرزہ آرائی کرتے ہیں اور نفرت پر مبنی پیغامات جاری کرتے ہیں جو کہ ٹوئٹر کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ جس کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہہ آسیہ مسیح پاکستان چھوڑ کر جا چکی ہے.