سپریم کورٹ کا سندھ حکومت اور عوام کو لڑوانے کا خوفناک منصوبہ

سپریم کورٹ کا سندھ حکومت اور عوام کو لڑوانے کا خوفناک منصوبہ بنایا ہے. اس منصوبے کے تحت

سپریم کورٹ نے کراچی کی فٹ پاتھوں سے تجاوزات اور رفاعی اداروں کے دسترخوان ختم کرنے کا ٹاسک وزیراعلیٰ سندھ کو سونپ دیا۔ سپریم کورٹ نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوے انتظامیہ کو حکم دینے کی بجاۓ وزیر اعلیٰ کو حکم جاری کیا ہے.

کراچی ماسٹر پلان کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں ہوئی۔

اس موقع پر عدالت نے شہر قائد سے تجاوزات ختم کرانے کا ٹاسک وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو سونپتے ہوئے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ تمام اداروں کے ساتھ مل کر مسائل حل کریں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کو حکم دیا کہ تمام فریقین کی مشاورت سے شہر کو اصل شکل میں بحال کرا کے رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے شہر بھر کی فٹ پاتھوں سے تعمیرات ختم کرانے کا بھی وزیراعلیٰ سندھ کو دیتے ہوئے حکم دیا کہ فٹ پاتھوں سے رفاعی اداروں کے دسترخوان اور شیڈز بھی فوری ختم کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں اسپتالوں کے سامنے خالی پلاٹوں پر ایمبولینس کے لیے زیر استعمال زمینوں کو بھی خالی کرانے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو شہر بھر میں روڈ لائنز، زیبرا کراسنگ اور سائن بورڈز لگانے کی بھی ہدایت کی۔

دوسری جانب وزیربلدیات سعید غنی نے سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے پر اپنے رد عمل میں کہا ہےکہ ایسی کوئی بات نہیں کی جو توہین عدالت کے زمرے میں آئے اور عدالت مجھے بطور وزیر گھروں کو توڑنے کا کہے گی تو میں اپنی وزرات چھوڑ دوں گا کیونکہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔

کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمیں عدالتوں کا فیصلہ پسند ہو یا نہ ہو مگر عملدرآمد کرانے کے پابند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے یہ کہا تھا یہ ممکن نہیں ہے، اس سے انسانی المیہ جنم لے گا، آج بھی کہتا ہوں ایسا کام حکومت کے لیے مشکل ہے جس سے انسانی المیہ ہو، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو توہین عدالت کے زمرے میں آئے ، عدالت مجھے بطور وزیر گھروں کو توڑنے کا کہے گی تو میں اپنی وزرات چھوڑ دوں گا کیونکہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔