بلاول کی کال: جیالے اسلام آباد پہنچیں، حکومتی چیخیں نکل گیں

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے عمران خان کی حکومت میں شامل دہشت گرد وزرا کا پول کھولے جانے کے بعد حکومت کی چیخیں ساتویں آسمان تک سنائی دینے کے ساتھ ہی حکومت نے بوکھلاہٹ میں نیب کو بلاول کے پیچھے چھوڑ دیا ہے.

دوسری جانب

چیئرمین پیپلز پارٹی سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر سے جیالوں کو اسلام آباد پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی پنجاب کی قیادت کل صبح لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی اور کارکنان بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر قافلے کی صورت میں ان کے ساتھ ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نیب کے نوٹس اور مبینہ طور پر قتل کی دھمکیوں کو اپنے کالعدم تنظیموں سے متعلق مؤقف پر حکومتی رد عمل قرار دیدیا۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ کالعدم تنظیموں سے وابستہ وزرا کی برطرفی کے مطالبے پر مجھے نیب کا نوٹس مل گیا، میرے مطالبے پر حکومت نے یہ ردعمل دیا کہ مجھے ریاست مخالف کہا گیا جب کہ مجھے قتل کی دھمکیاں ملنا بھی میرے اسی مطالبے پر حکومتی ردعمل ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کابینہ میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ وزرا کی موجودگی تک حکومت کو کوئی سنجیدہ نہیں لے گا، کالعدم تنظیموں کے تربیتی مراکز کی حمایت کرنے والے وزرا اور انتخابی مہم میں کالعدم تنظیموں کی حمایت حاصل کرنے والوں کو برطرف کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت انتہاپسندی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو کالعدم تنظیموں کو یقین دہانیاں کرانے والوں کو فارغ کرے۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو 20 مارچ کو طلب کر رکھا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کل اپنے وکلا اور پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیب میں پیش ہوں گے۔