بغض سے بھرے چیف جسٹس آصف کھوسہ کا نواز شریف پر گہرا وار

اسلام آباد: بغض سے بھرے آصف کھوسہ نے نواز شریف پر ایک اور گہرا وار کر دیا ہے. سپریم کورٹ میں ضمانت کے موقع پر چیف جسٹس کی بدنیتی اس وقت ظاہر ہوئی جب کیس کو غیر ضروری الجھاؤ کے بعد ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا.

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ (نواز شریف) لندن میں زیر علاج رہے ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ان کی صحت خراب ہوئی ہے تو معاملہ مختلف ہوگا، 25 جنوری سے قبل کی میڈیکل رپورٹس اور حالیہ رپورٹس کو دیکھ کر نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے ۔

وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں نواز شریف کی طبی رپورٹس پڑھیں ۔

آصف کھوسہ نے اگلی سماعت کے کیے 26 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسی دن سب کو سن کر فیصلہ کریں گے ۔

چیف جسٹس نے پرویز مشرف کا نام لیے بغیر ریمارکس دیئے بدقسمتی سے لوگوں کو پاکستان سے باہر بھیجنے کا ہمارا تجربہ زیادہ اچھا نہیں رہا ،لوگ دوران ٹرائل بیرو ن ملک علاج کیلئے جاتے ہیں لیکن واپس نہیں آتے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف اپنی بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر گرفتار ی دینے کیلئے پاکستان آئے تھے، نواز شریف کا بیرو ن ملک جاکر واپس نہ آنے کا کوئی ارادہ نہیں،سزا یافتہ شخص کو بیرو ن ملک علاج کیلئے بجھوا نے کی عدالتی مثال موجود ہے ۔

عدالت نے نواز شریف کی پا نچ میڈیکل رپورٹس کا بغورجائزہ لیا. عدالت نے کہا ہم طبعی ماہرین نہیں ہیں ،مکمل مقدمہ سمجھنے اور تصویر کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینے کیلئے میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں.

۔چیف جسٹس نے سوال پوچھا کیاپندرہ جنوری سے قبل نواز شریف کی کوئی میڈیکل ہسٹری موجود ہے ؟

ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے جواب دیا 29جولائی 2018کی نواز شریف کی پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ موجود ہے.

چیف جسٹس بولے ہمیں یہ بھی معلوم ہے نواز شریف لندن میں بھی زیر علاج رہ چکے ہیں ،اگرنواز شریف پہلے سے بیمار ہیں تو پھر صورتحال الگ ہوگی ،ہم جائزہ لیں گے کیا مداخلت کی جاسکتی ہے یا ہیں ؟

نواز شریف کے وکیل نے اپنے موکل کی بگڑتی صحت پر بات کرتے ہوئے کہا نواز شریف سترہ مختلف ادویات لے رہے تھے ، نواز شریف کو دل ،شوگر اور گردوں میں پتھری کا مرض لاحق ہے.

نواز شریف کو مافیا کہنے والے بغض زدہ چیف جسٹس نے آج کے دن چوٹ لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا.

بولے چیف جسٹس نے میڈیکل رپورٹس پر دلچسپ ا دازمیں تبصرہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے بعض خاص مریض ہوتے ہیں جن کیلئے طبعی اصطلاح میں پروٹوکولائی ٹسٹ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے،ایسے مریضو ں کا ڈاکٹرزمکمل ٹیسٹ کرانے کا کہہ دیتے ہیں ،سب مریض اہم ہوتے ہیں لیکن کچھ مریض بہت زیادہ اہم ہوتے ہیں ،ایسے مریضوں کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے.

آصف کھوسہ نہ کہا بیماری کے باوجود نواز شریف جسمانی طور پر تند درست تھے ،نواز شریف بیماریوں کے باوجود ا انتخابی مہم میں بھی حصہ لیتے رہے ،عام ا نتخابات کی سرگرمیوں میں بھی مکمل حصہ لیا ، نواز شریف نے تو ماشاءاللہ اتنی بیماریوں کے باوجود ٹرائل کا سامنا کیا،دیکھنا یہ ہے کہ کیا نواز شریف کی بیماری مزیدبڑھی ہے یا بہتر ہوئی ہے؟

چیف جسٹس نے پوچھا کیا ایسی کوئی عدالتی نظیر ہے کہ سزا یافتہ شخص کو بیرو ن ملک علاج کیلئے بھیجا گیا ہو؟

خواجہ حارث بولے ایک ایسی عدالتی مثال موجود ہے.

چیف جسٹس نے فوجی آمر پرویز مشرف کانام لیے بغیر ریمارکس دیئے بدقسمتی سے لوگوں کوپاکستا ن سے باہر بھیجنے کا ہمارا تجربہ زیادہ اچھا نہیں رہا ،لوگ بیرون ملک علاج کیلئے جاتے ہیں لیکن واپس نہیں آتے۔

خواجہ حارث نے کہا نواز شریف اس سے قبل بھی گرفتاری دینے کیلئے اپنی بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستا ن آئے تھے