وزیر اعظم نیازی نے بھارتی حملے کے جواب میں ہتھیار ڈال کر پاکستان کی ناک کٹوا دی

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے پاکستان پر رات گئے کیے جانے والے حملے کے جواب میں پاکستان مسلط کی گئی جنگ سے فرار ہو گیا ہے.

بھارتی حملے کے بارہ گھنٹے بعد ہونے والی ہنگامی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا اور پاکستان وقت اور جگہ کا تعین کر کے اس کا جواب دے گا۔

اکہتر کی جنگ میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے جنرل نیازی کے بعد موجودہ وزیر اعظم نیازی نے بھی جاری جنگ میں دشمن کے سامنے ہتھیار پھینک دیے ہیں.

بھارت کی دراندازی کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نیازی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینئر عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس بھارتی دراندازی کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا، اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی طیاروں کی دراندازی کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دی جب عسکری قیادت نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں سے آگاہ کیا، اجلاس کو پاک فضائیہ کے طیاروں کے فوری رسپانس کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں بالاکوٹ کےنزدیک مبینہ دہشت گردکیمپ کوٹارگٹ کرنے اور ہلاکتوں کا بھارتی دعوٰی مسترد کیا اور کہا کہ بھارت نےخودساختہ جھوٹااورغیرمحتاط دعویٰ کیا،بھارت کے اس ڈھونگ کی بنیاد اندرونی انتخابی ماحول ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی حملے کی خبر سب سے پہلے فوج کے ترجمان جنرل غفور نے ٹویٹر پر دی تھی

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی نے جارحیت کی اور جوابی کارروائی کے لیے وقت اور جگہ کا انتخاب خود کرے گا۔

اجلاس میں قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بھی بلانے کا فیصلہ کیا گیا اور بھارت کی جانب سے فضائی دراندازی کا معاملہ فوری طور پر عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چین کا پاکستان کی حمایت سے صاف انکار

دوسری جانب چین نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر کیے جانے والے حملے کے بعد گول مول بیان دیا ہے.

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ نے میڈیا بریفنگ کے دوران بھارت کے پاکستان پر حملے کے جواب میں پاکستان کی حمایت سے انکار کر دیا اور بیان دیتے ہوے دونوں ممالک کو صورتحال پر دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا درس دیتے ہوے دونوں ممالک کو صورتحال معمول پر لانے پر زور دیا ہے۔