کون سے فوجی اہلکاروں نے سیاستدانوں کو پیسہ دیا، سپریم کورٹ مدد کرے

اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے شواہد کی تلاش میں ناکامی پر ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے مدد مانگ لی ہے.

رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وزارت دفاع سے فوجی اہلکاروں کے متعلق کئی بار پوچھا گیا لیکن ادھر سے کوئی جواب نہیں آیا، کیس کی تحقیقات بند گلی میں داخل ہو چکی ہیں اس لئے عدالت رہنمائی کرے کہ آگے کیسے بڑھا جائے.

ایف آئی اے نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کراتے ہوئے بتایا ہے کہ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.

ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید سمیت تمام اہم گواہوں سے رابطہ کیا، بینک کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی گئی، متعلقہ بینک افسران کے بیان بھی ریکارڈ کیے گئے ۔

رپورٹ میں ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 190 ٹی وی پروگرامز کا جائزہ لیا، سیاستدانوں کے بیان ریکارڈ کیے گئے، اہم ثبوتوں کیلئے وزارت دفاع سے بھی رابطہ کیا گیا ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدقستمی سے تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا.

رپورٹ میں ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید نے رقوم تقسیم کرنے والے آرمی افسران کا نام نہیں بتایا.

کسی آرمی افسر نے پیسوں کی تقسیم قبول نہیں کی، رقوم کی تقسیم میں ملوث حساس اداروں کے اہلکاروں سے متعلق بھی نہیں بتایا گیا.

یاد رہے کہ اس کیس کے سلسلے میں ایف آئی اے نے کوئی گرفتاری نہیں کی اور تمام تحقیقات ملزمان کی مرضی کے مطابق چلائی.