فوج کے خلاف ٹویٹ کرنے پر صحافی کو سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کیا

فوج کے خلاف ٹویٹس کرنے پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے لاہور کی جانب سے صحافی رضوان رضی کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے.

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے (سائبر کرائم ونگ) محمد کاشف نے سینئیر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو قانون کے مطابق 24 گھنٹے کے اندر عدالت کے روبرو پیش کر دیا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘گرفتاری سے قبل تمام قانونی تقاضے جیسا کہ مجسٹریٹ کی اجازت اور گرفتاری کے ورانٹس حاصل کیے گئے تھے۔’

ایک سوال کے جواب میں کہ ان کے خلاف شکایت کنندہ کون ہیں انھوں نے بتایا ‘وہ دفاعی اور ریاستی اداروں کے حوالے سے بہت منفی ٹویٹس کرتے تھے۔ وہ ایسا کافی عرصے سے کر رہے تھے۔ وہ مختلف اداروں کے خلاف باتیں کر رہے تھے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خلاف اس حوالے سے ایک انکوائری سنہ 2017 سے چل رہی ہے تاہم اب ہونے والی گرفتاری کچھ پرانی اور نئی شکایات کی بنیاد پر کی گئی ہے اور انھیں لاہور میں سائبر کرائم ونگ کے پولیس سٹیشن کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایف آئی آر کن دفعات کے تحت درج ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت مجھے یاد نہیں مگر جو ان پر لاگو ہوتی تھیں وہی لگائی گئی ہیں’۔

ان کے مبینہ ‘اغوا’ کی خبر آتے ہی صحافتی اور سیاسی حلقوں نے اس اقدام کی پُرزور مذمت کی اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ان کی جلد بازیابی کی اپیل بھی کی۔

.

پاکستان
Image captionرضوان رضی کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کا عکس

سنیچر کی صبح رضوان رضی کے بیٹے نے ٹوئٹر پر اپنے والد کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کہ ان کے والد کو گھر کے سامنے سے مبینہ طور پر ‘اغوا’ کر لیا گیا ہے۔

اپنی پہلی ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ‘میں دادا جی کا بیٹا لکھ رہا ہوں اور صبح سویرے میرے باپ کو کچھ لوگ گاڑی میں دھکا مار کر اٹھا کے لے گئے ہیں۔’

ٹوئٹر پوسٹس @RaziDada کے حساب سے: Aoa Mein Dada g ka beta likh raha huin. Abhi subha sawery meray baap ko kuch log gari mein dhaka maar kar utha le gaye hain.

اسی اکاونٹ سے کی جانے والے دوسری ٹویٹ میں بتایا گیا کہ ‘کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ میرے والد صاحب کو پہلے کالی گاڑی میں لے کر گئے اور تھوڑی ہی دور جا کر ایک رینجرز کی گاڑی میں بیٹھا دیا۔ گارڈ کہتا ہے کہ یہ حرکت اس نے صبح آٹھ بجے نوٹس کی جب وہ ڈیوٹی پر آیا۔’

ان کے مبینہ ‘اغوا’ کی خبر آتے ہی صحافتی اور سیاسی حلقوں نے اس اقدام کی پُرزور مذمت کی اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ان کی جلد بازیابی کی اپیل بھی کی۔

ٹوئٹر پوسٹس @RaziDada کے حساب سے: Kuch logn sey baat karney k baad ye inkashaaf hua hai meray waalid sahb ko pehlay kaali gaari mein le kar gaye aur thori hi dur ja kar aik ranger ki gaari mein betha diya. guard kehta hai k ye harkaat us ney subha 8 bajey sey notice ki musasal jub wo duty per aya

لاہور پریس کلب کی جانب سے جاری کردہ ایک مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں سینئر صحافی کے اغوا پر بہت تشویش ہے اور انھوں نے حکومتی ذمہ داران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد رضوان رضی کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اختلاف رائے کی بنیاد پر شہریوں کو اٹھا کر گم کر دینا لاقانونیت کو ہوا دیگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رضوان رضی گرفتار ہیں تو رہا کیا جائے اور اگر لاپتہ ہیں تو انہیں بازیاب کروایا جائے۔

رضوان رضی کی مبینہ گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر کئی لوگ ان کی حمایت میں پیغامات جاری کر کے ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔