ہائی کورٹ جج نے سوشل میڈیا کے بارے میں بھاشن دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نےسوشل میڈیا پروائرل ویڈیووالی لڑکی سدرہ ریاض کے فیس بک دوستی کیس کی سماعت کی. جج کے سامنے سدرہ کےوکیل نےبتايا فیس بک دوستی کےبعد لڑکی جھنگ سےاسلام آباد آئی کچھ دن بعد لڑکے نے چھوڑدیا ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے ۔

ملزم ضیا مسعود نے بیان دیا وہ 25 برس کا ہےاب میٹرک کررہا ہے.

جسٹس محسن اخترکیانی نےلڑکے کی سرزنش کي اورکہا کہ توبہ کرو،عدالت نےملزم ضیامسعود کی ضمانت خارج کرنےکی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس محسن اخترکیانی نےریمارکس دیئےمعاشرہ فیس بک اورواٹس اپ میں پھنسا ہوا ہے، لوگوں کو سیلفیاں کھنچوا کر اپ لوڈ کرنے کا شوق ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کی زندگیاں زہر بنادیں،لوگوں کوپتہ ہی نہیں کیسے ان کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں. جسٹس محسن نے سوشل ميڈيا کے حوالے ريمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ نےلوگوں کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے، پورا معاشرہ اس گند میں پڑ گیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزيد ریمارکس ديے کہ سوشل میڈیا سے لوگوں کی ذاتی زندگیاں بھی محفوظ نہیں، پتہ نہیں کیوں معاشرہ گند میں پڑگیا ہے۔

واضح رہے کہ مسماۃ سدرہ ریاض نے مقامی وکیل کے خلاف بھی ریپ کی ایف آئی آر درج کرا رکھی ہے ۔