کیا آرمی چیف مستعفی ہو رہے ہیں؟

دو ہزار سترہ میں فیض آباد دھرنے کے موقع پر پاکستاں کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے ایوان بالا (سینٹ) میں حاضر ہو کر اراکین کو یقین دلایا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے فوج کا ہاتھ تھا کہ تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

آج پاکستان کی سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے. فیصلے میں فوج کے دھرنے میں ملوث پاۓ جانے کا ذکر کیا گیا ہے.

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر جنرل قمر باجوہ کے ماضی کے بیان کی روشنی میں سوال کیا جا رہا ہے کہ

کیا اب جنرل جاوید باجوہ آرمی چیف کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے؟

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

تحریکِ لبیک نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر انتخابی حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے متنازع ترمیم کے خلاف نومبر 2017 میں دھرنا دیا تھا جس کا اختتام وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد ہوا تھا۔