دھرنے والوں میں نوٹ باٹنے والے فوجی افسر کا سپریم کورٹ میں ذکر کیسا رہا؟

سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنے کے فیصلے میں دھرنے کے شرکا میں رقم تقسیم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ وردی میں ملبوس ایک افسر کی ویڈیو بہت مشہور ہوئی تھی جس میں وہ جیل سے رہا کئے جانے والے مظاہرین میں نقدی والے لفافے بانٹتے دیکھے گئے تھے ۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اصغر خان کیس فیصلے کے بعد مسلح افواج اور آئی ایس آئی کی جانب سے سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ رک جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عدالت نے لکھا ہے کہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے فیض آباد دھرنے کے شرکا میں رقوم تقسیم کیں اور یہ کوئی اچھا منظر نہیں ہے۔

یاد رہے کہ فیض آباد دھرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے. سپریم کورٹ نے عمران خان کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

تحریکِ لبیک نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر انتخابی حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے متنازع ترمیم کے خلاف نومبر 2017 میں دھرنا دیا تھا جس کا اختتام وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد ہوا تھا۔