دھرنا: اختیارات سے تجاوز کرنے والے فوجی افسران کے خلاف کروائی کا حکم

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے سنہ 2017 میں اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے کے معاملے پر ازخود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے 43 صفحات کے فیصلے میں ریاستی سطح پر لاقانونیت اور تشدد کیلئے اکسانے کی گزشتہ دس سالہ تاریخ لکھی ہے ۔ انہوں نے اس کا آغاز بارہ مئی 2007 سے کیا ہے ۔

عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ آئین مسلح افواج کو سیاسی عمل میں شامل ہونے سے روکتا ہے. مسلح افواج کے جن افراد نے حلف کی خلاف ورزی کی ان کےخلاف کارروائی جائے. آئین مسلح افواج کو کسی بھی سیاسی جماعت اورشخصیت کی حمایت سے روکتا ہے.

عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ وزارت دفاع، آرمی چیف، فضائیہ اورنیول چیف کو کارروائی کےلیے کہے.

تحریکِ لبیک نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر انتخابی حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے متنازع ترمیم کے خلاف نومبر 2017 میں دھرنا دیا تھا جس کا اختتام وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد ہوا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج جاری کیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احتجاج سب کا حق ہے لیکن اس کے دوران لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، بد امنی پر اکسانے والے فتوے دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ فیصلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس اورقانون نافذ کرنے والے ریلی، دھرنے اور مظاہروں کےلیے بہترین پلان تیار کریں ۔

سیاسی جماعت بنانا اور احتجاج آئینی حق ہے۔ احتجاج کے حق سےدوسرے کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانون کے تحت کاروائی ضروری ہے.

الیکشن کمیشن کا فرض ہے قانون کے خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کرے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں سانحہ 12 مئی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو سزا نہ دے کر غلط مثال قائم کی گئی ۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جو کسی دوسرے کے خلاف فتوی دیتا ہے جس سے کسی کو نقصان پہنچے یا اس کی راہ میں رکاوٹ آئے، اس کے خلاف انسداد دہشت گردی یا سائبر کرائم کے قوانین کے تحت مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔

فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ ’احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن یہ حق اس وقت تک تسلیم کیا جانا چاہیے جب تک اس سے دوسروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔‘

تحریک لبیک نے دھرنے کے لئے انتظامیہ سے اجازت نہیں لی ۔ دھرنا قیادت نے دھرنے منتقلی کے حوالے سے وعدے توڑے ۔ دھرنے کی قیادت نے ملک میں نفرت کو ہوا دی ۔ حکومت سے اختلاف رکھنے والے تمام لوگوں نے دھرنے کا حصہ بن گئے.

عدالت نے آرمی چیف، اور بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا ہے کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کا آئین مسلح افواج کے ارکان کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں بشمول کسی سیاسی جماعت، دھڑے یا فرد کی حمایت سے روکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان وزارتِ دفاع اور افواج کے متعلقہ سربراہان کے ذریعے ان افراد کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے‘۔

آئی ایس آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید، اعجاز الحق اور تحریک انصاف علما ونگ نے حمایت مین آیڈیو بیان جاری کئے۔ سیاست دانوں نے غیر زمہ دارانہ بیانات کے زریعے مزید آگ بھڑکائی.

یاد رہے کہ فیض آباد دھرنے کے خاتمے کے لیے فوج کے کردار پر اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ فیض آباد دھرنے میں آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر میجر جنرل فیض حمید نے کیسے معاہدہ کر لیا؟

سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا کہا گیا ہے کہ’تمام خفیہ اداروں بشمول (آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی) اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں (چینلز اور اخبارات) کی نشرواشاعت اور ترسیل میں مداخلت کا اختیار ہے‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ نجی ٹی وی چینلز جن میں ڈان اور جیو شامل ہیں اور جو کہ لائسنس یافتہ چینلز ہیں، کی نشریات کو چھاؤنی اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقوں میں بند کر دیا گیا لیکن پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت یا کوئی بھی خفیہ ادارہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اصغر خان کیس فیصلے کے بعد مسلح افواج اور آئی ایس آئی کی جانب سے سیاسی مداخلت کا معاملہ رک جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

ریمارکس دیتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے فیض آباد دھرنے کے شرکا میں رقوم تقسیم کیں اور یہ کوئی اچھا منظر نہیں ہے۔

نامہ نگار کے مطابق عدالت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے بھی ’اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سیاسی معاملات پر رائے زنی کی‘۔

اس فیصلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس سیاسی بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ تاریخ ثابت کرے گی کہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات غیر جانبدارانہ تھے۔

واضح رہے کہ متعدد سیاسی جماعتوں نے گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔