فوجی ملازم میجر جنرل ظفر سپریم کورٹ میں ججوں پر اکڑنے لگا

سپریم کورٹ میں ائیر پورٹ پر پکڑی گئی 7 کلو گرام ہیروئن اسمگلنگ کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔

عدالتی حکم پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس اور ڈی جی اے ایس ایف پیش ہوئے.

عدالت کو بتایا گیا کہ برآمد کی گئی منشیات کا ریکارڈ ایک ماہ تک رکھا جاتا ہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ منشیات کا ریکارڈ کیوں نہیں رکھتے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایک ماہ بعد شواہد ختم کرنا دہشتگردوں کو سہولت فراہم نہیں کرتا؟

جسٹس گلزار نے کہا کہ جب تک مقدمہ چلے ریکارڈ رکھنا چاہیے.

سپریم کورٹ کے لہجے پر فوجی ملازم میجر جنرل ظفرالحق اکڑ میں آ کر بولا ہم ایک بہترین فورس ہیں.

جسٹس قاضی فائز نے سرکاری ملازم کو یاد دلایا کہ اپنے رویے سے انا نکالیں، ہم اور آپ عوام کے ملازم ہیں.

جسٹس گلزار نے کہا کہ اب یہ ملزمان بری ہوں گے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہو گی. شواہد ختم کر دیتے ہیں تو ملزم کو سزا کیسے دیں، آپ سب ملزمان کے ساتھ ملے ہوتے ہیں. ریکارڈ ہی نہیں اور کہتے ہیں ملزم کو سزا دو. کیسے دیں سزا.

اس پر میجر جنرل ظفر بولا کہ عدالت درست کہہ رہی ہے.

ڈی جی اے ایس ایف نے اپنی چالاکی دکھاتے ہوے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایس او پی کے مطابق تمام اقدامات کیے.

جسٹس گلزار بولے کہہ عدالتی حکم کے بعد ایس او پی کا کیا تعلق. کیا اپکو اپنے فرائض معلوم ہیں اپ اس عہدے کے اہل ہیں ۔

ڈی جی اے ایس ایف میجر جنرل ظفر الحق نے کہا کہہ میں اپنے فرائض سے متعلق اگاہ ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کیا اپکو معلوم ہے برطانیہ امریکہ کینڈا یا بھارت میں مقدمات کا ریکارڈ کیسے مخفوظ کیا جاتا ہے؟

ڈی جی اے ایس ایف میجر جنرل ظفر الحق نے کہا کہہ مجھے ان ممالک کا ریکارڈ مخفوظ کرنے کا طریقہ کار معلوم نہیں۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا اپ ایسا جواب دے کر اپنے یونیفارم کی بے توقیری نہیں کر رہے؟

عدالت نے اپکا لیکچر نہیں سننا ڈیٹا مخفوظ کیوں نہیں کیا جاتا یہ بتائیں

ڈی جی اے ایس ایف میجر جنرل ظفر الحق نے کہا ریکارڈ مخفوظ کرنے کی مدت ایک سال بھی کر دی جائے تو بھی ریکارڈ ختم ہونا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن اپ ریاست کے ملازم ہیں ۔ کیا ہمارے ملک میں کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں ہوتا ہے، چھ ماہ تک تو چالان پیش نہیں کیا جاتا۔

اے ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ عدالت مجھے موقع دے گی تو جواب دوں گا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا اور سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی.

ملزم غلام مرتضی نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی.

ملزم سے 2014 میں 7 کلو گرام ہیروین برآمدگی کا کیس ہے