جنید جمشید کو بچھڑے 2 برس بیت گئے، مداحوں کا خراج عقیدت

جنید جمشید لاہور میں واقع یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل تھے، انہوں نے اپنے موسیقی کے کیریئر کا آغاز میوزک بینڈ ‘وائٹل سائنز’ سے کیا۔

1987 میں ریلیز ہونے والے گیت ‘دل دل پاکستان’ نے خاص طور پر جنید جمشید کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا، ان کے بینڈ کو پاکستانی ‘پنک فلوائڈ’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔

تاہم 2002 میں اپنے چوتھے اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعیلمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔

جنید جمشید کو 2007 میں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ 2014 میں انہیں دنیا کی 500 بااثر مسلم شخصیات میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

7 دسمبر 2016 کو جنید جمشید بھی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اُس بدقسمت طیارے میں سوار تھے، جو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے تھے حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوا، اس سانحے میں طیارے کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

آج جنید جمشید کی دوسری برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے، ایسے میں مداح بھی انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔