اور اگر تاریخ بھی یو ٹرن لے لے؟

پرانے پاکستان میں وعدے قرآن و حدیث نہیں تھے کہ جن پر مکمل عمل کیا جائے اور نئے پاکستان میں جو سیاستداں یو ٹرن نہ لے سکے وہ کامیاب سیاستداں نہیں کہلا سکتا۔اس کے علاوہ نئے اور پرانے پاکستان میں کوئی اور فرق محسوس ہو تو اس فقیر کو بھی مطلع کیجیے گا۔

نپولین اور ہٹلر کو اگر نیٹو کی پاکستان کے راستے افغانستان جانے والی رسد روکنے یا 126 دن کے دھرنے کے بعد کنٹینر سے اترنے یا عاطف میاں کی بطور معاشی مشیر تقرری پر اٹھنے والا وبال یا کسی علامہ خادم حسین رضوی کا دھرنا درپیش ہوتا تو وہ بھی یو ٹرن لے لیتے۔

مگر ڈھائی ہزار کلومیٹر پرے ماسکو کے دروازوں پر پہنچ کے یوٹرن لینے کا نتیجہ بھی وہی نکلتا جو نہ لینے کا نکلا۔
مجھے اتنا تو معلوم ہے کہ عمران خان نے آکسفورڈ میں داخلہ لیا تھا مگر وہاں پڑھا کیا، یہ نہیں معلوم ۔چنانچہ میں یہ کہنے کا رسک بھی نہیں لے سکتا کہ خان صاحب نے وہاں کچھ اور پڑھا ہو کہ نہ پڑھا مگر تاریخ ضرور پڑھی ہو گی۔

شاید عمران خان بنیادی اصولوں پر یو ٹرن لینے کی نہیں بلکہ مقصد کے حصول کے لیے حکمتِ عملی کو حالات کے مطابق بدلتے رہنے کی بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر خان صاحب کو اپنے یوٹرن والے بیان سے وضاحتی یو ٹرن لے لینا چاہیے۔ لیکن اگر خان صاحب اپنے اوریجنل بیان پر ڈٹے رہتے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔

جیسے شروع شروع میں عمران خان سمجھتے تھے کہ وہ روایتی سیاسی الیکٹ ایبلز کے بغیر بھی برسرِاقتدار آ سکتے ہیں لیکن 22 برس بعد ان پر کھلا کہ یہ سیاست ہے کرکٹ نہیں کہ نئے لڑکے چل جائیں گے۔ اور پھر آپ نے دیکھا کہ اس یو ٹرن نے کیا چمتکار دکھایا۔

خان صاحب کا اوائلِ عمری میں یہ بھی خیال تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اس ملک کی تقدیر بدلنے کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے اور اسے کٹھ پتلی سیاستداں درکار ہیں۔ لیکن آج خان صاحب سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستداں ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں لہٰذا ہم آہنگی کے بغیر گاڑی نہیں چل سکتی۔

کیا کیا جائے کہ تاریخ خان صاحب کی سوچ سے کہیں بڑی گیم ہے۔ جوں جوں شخصی قد اور احساسِ ذمہ داری بڑھتا جاتا ہے توں توں یو ٹرن لینا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔

ذرا سوچیے اگر سقراط زہر کا پیالہ واپس کر دیتا، ابراہیم آتشِ نمرود میں نہ کودتے، حسین حالات ناموافق دیکھ کر یزید کی بیعت کر لیتے، گلیلیو چرچ کو لکھ کر دے دیتا کہ زمین چپٹی ہے، بابر پانی پت میں رانا سانگا کا ایک لاکھ کا لشکر دیکھ کر پتلی گلی سے یوٹرن لے لیتا، جدید تعلیم کا تنہا وکیل سر سید احمد خان درجنوں مولویوں کی بات مان لیتا کہ انگریزی پڑھنا کفر ہے، اتاترک گیلی پولی میں برطانوی و فرانسیسی بیڑے کو دیکھ کر یو ٹرن ڈھونڈھ لیتا، جناح صاحب متحدہ ہندوستان کا وزیرِ اعظم بننے کی پیش کش قبول کر لیتے، بھٹو رحم کی درخواست لکھ دیتا تو ہو سکتا ہے جان بچ جاتی۔ مگر۔۔۔۔

ابھی نو دن پہلے ہی تو خان صاحب یومِ اقبال پر نشریاتی شاہین بنے کہہ رہے تھے کہ اقبال کا پیغام یہی ہے کہ عقل کی غلامی سے نکل۔ ناممکن کو ممکن کرنا ہے تو عشق و جنون کا دامن تھام۔ مگر وہ کون سا عشق اور جنوں ہے جو یو ٹرن بھی سکھاتا ہے؟