یو ٹرن اور جھوٹ میں کیا فرق ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے ’یوٹرن‘ کے حق میں بیان دیتے ہوے کہا کہہ ’’ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا۔تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی‘‘۔

سوشل میڈیا پر پاکستان کے وزیر اعظم کے مذکورہ بیان کا تمسخر اُڑایا جا رہا ہے. نیب افسر کی جعلی ڈگری کا انکشاف کرنے والی وسیم عباسی نے تجزیہ کرتے ہوے کہا کہ ” یو ٹرن اور جھوٹ میں کیا فرق ہے؟”

وزیراعظم کے اس بیان کے حق میں عظیم مفکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے دلیل دیتے ہوے کہا کہ ’’یوٹرن واپس پلٹنے کو کہتے ہیں۔ ہمارے دین میں واپس پلٹنے والا “رجوع” کرنے والا ہے۔ واپس پلٹنا اچھا ہوتا ہے، بات پر جمے رہنا مناسب نہیں ہوتا۔عمران خان نے یو ٹرن سے مراد رجوع کو لیا ہے اور صحیح مطلب اخذ کیا ہے ۔ہر بڑا لیڈر اور انسان یوٹرن لیتا تھا اور لیتا رہے گا‘‘۔

تجزیہ کار منصور علی خان نے قائد اعظم خان کا ایک قول عمران خان کے بیان کے ساتھ پوسٹ کیا ہے. قائد اعظم کا قول ہے ” فیصلہ لینے سے پہلے سو دفعہ سوچو، لیکن ایک دفعہ فیصلہ لے لو تو اس پر قائم رہو”