اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں میں

کراچی کو میگا سٹی، میٹروپولیٹن، منی پاکستان اور معاشی حب جیسے ناموں سے پکارے جانے کا اعزاز حاصل ہے، لیکن ملکی معیشت میں اہم ترین حصہ ڈالنے والے پورٹ سٹی کے ساتھ بڑی نا انصافی یہ ہے کہ اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی جو مضبوط رائے میں ڈھائی سے پونے تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اسے حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں ڈیڑھ سے پونے دو کروڑ دکھایا گیا اور اسی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا فارمولہ کار فرما ہے۔

وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں، چیف جسٹس

دوسری جانب صوبائی حکومت کے بعض اقدامات سے شہر میں رہنے والے مختلف طبقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں سرکاری اداروں میں گریڈ 1 سے 16 تک کی لاکھوں اسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں لیکن سرکاری اداروں میں ہونے والی ان بھرتیوں پر مختلف اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔

جس نے بھی یہ جنازہ پڑھا اس کا نکاح ٹوٹ گیا

روزگار دینا حکومت کا کام ہے لیکن اس میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا بھی ضروری ہیں۔ ماضی میں بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ایک عام غیرجانبدار شہری کو روزگار سے محروم کرتی رہی ہیں جبکہ سیاسی بنیاد پر بھرتیوں میں میرٹ اور اہلیت کا معیار بھی شکوک و شبہات کے دائرے میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں محکمہ قانون، تعلیم، صحت، ریونیو، ٹریفک پولیس، پولیس اور دیگر انتظامی محکموں میں مقامی افراد کو نظرانداز کرنے پر بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں۔دوسری جانب تعلیمی اداروں میں داخلوں کے معاملے پر بھی تحفظات پائے جارہے ہیں۔

قانون کے مطابق سروس رولز کہتے ہیں کہ مقامی اسامیوں پر مقامی ڈومیسائل کے حامل امیدواروں کو نوکری دی جانی چاہیے لیکن سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر کے دفاتر سے کراچی کے ڈومیسائل رشوت کے عوض غیر مقامی افراد کو جاری کرنے اور اس بنیاد پر مقامی سرکاری نوکریاں دینے کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ اس معاملے کو سلجھانے کے لیے مقامی ڈومیسائل کے ساتھ پی آر سی اور میٹرک کی سند کو بھی اہلیت میں شامل کرنا ضروری ہے جس میں نادرا سے مدد لی جانی چاہیے۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کے گزشتہ 10 سالوں کی فہرستوں میں حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں دیہی علاقوں سے امیدوار آفیسرز کے امتحانات میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اگرچہ شہری علاقوں سے بھی اسسٹنٹ کمشنرز، سیکشن آفیسرز، رجسٹرار، ڈاکٹرز، انجینئرز، پراسیکیوٹرز، لیکچرار اور دیگر عہدوں کے لیے کم تعداد میں امیدوار امتحانات میں حصہ لے رہے ہیں، لیکن ان میں بڑی تعداد کامیاب کیوں نہیں ہو پارہی، یہ صورت حال مقابلے کے امتحان کے نتائج کو مشکوک بنارہی ہے اور اس معاملے پر بھی امیدواروں نے عدالتوں سے رجوع کرلیا ہے۔

حکومت کی ترجیحات میں ہونا چاہیے کہ عام آدمی کو روزگار فراہم کرنے کے مواقع فراہم کرے لیکن اگر ‘اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں میں’ والا معاملہ ہوگا تو یہ عمل محرومی کے ساتھ معاشرےکے لیے بڑی ناانصافی میں شمار ہوتا ہے۔

دوسری جانب داخلوں اور ملازمتوں کے لیے این ٹی ایس کے نظام پر بھی شکوک و شبہات بڑھنے لگے اور معاملات عدالتوں تک چلے گئے۔ کچھ عرصے قبل سندھ بار ایسوسی ایشن نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور معیشت کے لیے اہم ترین شہر ہے۔ یہاں سرکاری ملازمتیں مقامی لوگوں کی بجائے غیر مقامی لوگوں کو دی جائیں گی تو نجی شعبہ جو پہلے ہی اپنے نقصان کو رو رہا ہے، کتنا بوجھ سہار سکے گا جبکہ حکومت کی پالیسیاں بھی نجی شعبے کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کرتی نظر نہیں آتیں۔ لیکن یہ غریب پرور شہر کسی طرح بھی ملک کے دیگر شہروں سے آنے والے بیروزگاروں کو اپنے پورے وسائل نہ ملنے پر بھی تین وقت کے کھانے کے وسائل فراہم کر رہا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ میگا سٹی کی آبادی میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے جس کے اعداد و شمار کو ناپنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں، دوسری جانب بے روزگاری کی لہر نوجوانوں کو جرائم کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔مختلف پولیس افسران سے شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر بات چیت کے دوران یہ پہلو سامنے آیا ہے کہ بیروزگاری بھی جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

ہوش ربا مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور چھوٹے سے خاندان کے لیے بھی ضروریات زندگی پورا کرنا مشکل ہوتا جار ہا ہے۔ وسائل کی تقسیم کے لیے مردم شماری کے اعداد وشمار اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کا غلط ہونا یقیناً بڑی ناانصافی کا سبب ہے جو انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ایسے میں بیروزگاری، کرپشن، عصبیت کی ہوا اور حکومت کی غلط منصوبہ بندی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی ماضی کی طرح سیاسی جماعتوں اور جرائم پیشہ گروہوں کا ایندھن بننے کا باعث ہوگا۔