شوگر کا مرض اور سماجی زندگی

روز بروز بڑھتا شو گر ایک ایسا مرض ہے جو نا صرف جسم کے ہرنظام کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے اثرات فردسے لیکر معاشرے تک محیط ہیں، یہ جسمانی ، ذہنی ، سماجی اور معاشی لحاظ سے بھی انسانی معاشرے پراثرانداز ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں شوگر کی بیماری کے سبب ہرچھ سیکنڈ میں ایک شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔

پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 3کروڑ 50لاکھ سے زائد ہے۔ جبکہ منسٹری آف ہیلتھ پاکستان اورورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے باہمی اشتراک سے کیے گئے ذیابیطس سروے کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 26.3 فیصد تک جاپہنچی ہے

جن میں 19.2 فیصد مریض اپنے مرض سے واقف جبکہ 7.1فیصد اپنے مرض سے نا بلد ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اگر ذیا بیطس ( شوگر) سے بچاؤ کے مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو دو ہزار تیس تک ذیا بیطس دنیا کی ساتویں بڑی جان لیوا بیماری بن سکتا ہے، جبکہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

ذیا بیطس کا مرض جسم میں انسولین کی مقدارغیر معتدل ہونے سے پیدا ہوتا ہے ، ہماری روزمرہ خوراک کا اکثر حصہ خاص طور پر میٹھی اور نشاستہ دار اشیاء شوگر میں تبدیل ہوتی ہیں، اس شوگر کو گلوکوز کہتے ہیں، اور یہ گلوکوز جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ انسانی جسم میں معدہ سے ذرا نیچے لبلبہ (Pancrea) ہوتاہے، جو انسولین نامی ہارمون پیداکرتا ہے جو گلوکوز کی مقدار کو حدود میں رکھتا ہے، اور ساتھ ہی یہ ممکن بناتا ہے کہ ہمارے عضویات خون کے ذریعے سے گلوکوز حاصل کر سکیں، اگر ایسا نہ ہو تو پھر انسانی جسم میں شامل چربی ہی توانائی کا ذریعہ رہ جاتی ہے۔

انسولین کا انسانی جسم کی نگہداشت میں انتہائی اہم کردار ہے، ذیا بیطس کا مرض لاحق ہونے پر بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ لبلبہ صحیح کام نہیں کرتا اور ضروری مقدار میں انسولین خارج نہیں ہوتی، یا پھر یہ ہوتا ہے کہ خلیات انسولین کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، دونوں صورتوں میں خون میں گلوکوز کی مقدار معتدل نہیں رہتی جس کے نتیجے میں تمام عضویات پر برا اثر پڑتا ہے، سب سے برا اثر خون کی شریانوں پر پڑتا ہے۔ذیا بیطس کا تا حال کوئی مکمل علاج نہیں ہے،

یعنی اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے یا پھر اس کے اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے مگر بیماری لاحق ہونے کی صورت میں اس کا مکمل خاتمہ کسی طور ممکن نہیں۔ اگر مستقبل قریب میں مصنوعی پینکریاز یا لبلبے کی تخلیق کا مرحلہ پوری طرح مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے استعمال سے عرف عام میں شوگر کہلانے والے پیچیدہ مرض ذیا بیطس کا شافی علاج ممکن ہو سکے گا بعض طبی ریسرچرز کے مطابق مصنوعی لبلبے کی تخلیق آزمائشی مراحل میں ہے۔

بنیادی طور پر ذیا بیطس ( شوگر) کی دو قسمیں ہیں،اوّل جس میں جسم میں انسولین قطعاً نہیں بنتی، یہ بیماری کبھی بھی نمودار ہو سکتی ہے مگر عموماً بچپن سے ہی لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں، اس کا علاج مستقل انسولین لیتے رہنا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ خون میں گلوکوز کی مقدار سے آگاہ رہنا بھی ضروری ہے تاکہ انسولین کی صحیح مقدار لی جاسکے۔ کچھ صورتوں میں خون میں گلوکوز کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہو سکتی ہے،

لہٰذہ محتاط رہنے کی ضرورت رہتی ہے۔ دوسری قسم کی ذیا بیطس میں یہ ہوتا ہے کہ خلیات اور ٹشوز میں انسولین کے ساتھ کام کرنے والے کیمیائی اجزاء صحیح طریقے سے اپنا عمل سرانجام نہیں دے پاتے جس کے نتیجے وہ نظام جس کو انسولین کی آمد کے بعد کام کرنا ہوتا ہے یہ اندازہ نہیں لگا پاتا کہ انسولین کی مقدار کتنی ہے، نتیجے میں جسم کو گلوکوز کی صحیح مقدار حاصل نہیں ہو پاتی، نتیجہ گلوکوز کی زیادتی یا کمی دونوں صورتوں میں نکل سکتا ہے، ذیابیطس کی یہ قسم زیادہ عام ہے۔

ذیا بیطس کی عمومی علامات میں دھندلا نظر آنا، چکر آنا، مستقل پیاس لگنا، تیزی سے وزن گرنا، بھوک لگتے رہنا، بہت زیادہ پیشاب آنا شامل ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علامات کا خیال رکھا جاے، ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ذیا بیطس پر نظر رکھی جائے اور وقتاً فوقتاً ذیا بیطس کا ٹیسٹ کروایا جائے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ذیا بیطس میں ایک وقت وہ ہوتا ہے جس کو قبل از ذیابیطس کہا جا سکتا ہے۔

یعنی ایسے اثرات جو کہ ذیا بیطس کی طرف لے جا سکتے ہیں، مستقل ٹیسٹ کرواتے رہنے سے اس وقت میں آگاہی حاصل ہو سکتی ہے اور بر وقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے خواتین و حضرات کو ذیا بیطس سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزن زیادہ ہونا، رہن سہن اور اوقات میں ترتیب نہ ہونا، بے ڈھنگی زندگی، واک اور ورزش نہ کرنا یا جسمانی مشقت نہ ہونا، بہت زیادہ مرغن غذا کا استعمال ، بلند فشار خون ذیا بیطس کی وجوہات میں سے ہیں، ذیا بیطس موروثی اثرات کی بنا ہ پر بھی ہو سکتا ہے یعنی ماں باپ یا ان کے والدین اگر ذیابیطس کے مریض رہے ہوں تو اگلی نسل میں ذیا بیطس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔