ماسکو میں طالبان سے جاری مذاکرات، بھارت اور افغانستان کی شرکت

واشنگٹن — وائس آف امریکہ کے مطابق افغانستان کی حکومت ماسکو میں طالبان سے جاری مذاکرات سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش میں ہے.

روسی وزارتِ خارجہ کے اعلان کے باوجود افغان صدر اشرف غنی نے وفد نہیں بھیجا. جمعے کے روز ایک بیان میں افغان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت نے ’’ماسکو اجلاس میں شرکت کے لیے کوئی نمائندہ نہیں بھیجا‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ امن کونسل‘ بحیثیت شہری، لیکن غیر سرکاری ادارے کے طور پر، اجلاس میں شریک ہے۔

ماسکو کے اجلاس میں افغان طالبان کے ساتھ ساتھ 12 ملکوں کے وفود شریک ہیں۔ اجلاس کا مقصد افغان تنازع کے تمام متعلقہ فریق کو اکٹھا کرنا ہے۔

گفت و شنید کا مشاہدہ کرنے کے لیے، ماسکو میں امریکی سفارت خانے نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا۔

گذشتہ سال ماسکو میں منعقد ہونے والے پہلے اجلاس میں امریکہ اور طالبان شریک نہیں تھے، جس میں افغان حکومت کی سرکاری طور پر نمائندگی موجود تھی۔

جمعے کے روز روسی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے اِس اعلان کے باوجود کہ اجلاس کا یہ دوسرا دور ہے، افغان بیان میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’’یہ (ماسکو سلسلہ جنبانی) کے گذشتہ اجلاس کا تسلسل نہیں تھا، جو بیرونی ملکوں میں ہوتا رہا ہے، چونکہ آج کے اجلاس میں طالبان کو بھی مدعو کیا گیا ہے‘‘۔

عین ممکن ہے کہ ماسکو اجتماع کے بارے میں افغان ردِ عمل کی ضرورت اِس لیے پیش آئی ہو کہ طالبان نے ایک بیان دیا ہے کہ کانفرنس کی صدارت افغانستان نہیں رہا ہے؛ اور یہ کہ اُس کا وفد افغان وفد کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔

یہ بیان طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے جاری کیا تھا جس میں اِس بات پر زور دیا گیا تھا کہ یہ گروپ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حیثیت کا مظہر ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اس اجلاس میں شرکت سے، اسلامی امارات کی بین الاقوامی ساکھ مزید مضبوط ہوگی‘‘۔ اسلامی امارات وہ نام ہے جو طالبان اپنی حکومت کے لیے استعمال کیا کرتے تھے، جب وہ افغانستان پر قابض تھے۔

دریں اثنا، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے تعینات کردہ نمائندہٴ خصوصی، زلمے خلیل زاد نے خطے کا 12 روزہ دورہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک پریس رلیز میں کہا گیا ہے خلیل زاد افغانستان، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور قطر کا دورہ کریں گے۔

بھارتی شرکت پر عمر عبداللہ کی تنقید

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے ایک سابق وزیرِ اعلیٰ اور ریاست کی سب سے پرانی سیاسی جماعت، ’نیشنل کانفرنس‘ کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے افغانستان میں قیامِ امن کے لئے طالبان کے ساتھ روس میں ہونے والے مذاکرات میں نئی دہلی کی غیر ریاستی شرکت کی با لواسطہ نکتہ چینی کی ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’ایسا (کیا جانا) بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کے اس مؤقف کے منافی ہے جو انھوں نے کشمیر میں اسی طرح کا عمل شروع کرنے کے سلسلے میں اختیار کر رکھا ہے‘‘۔

اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں مرکزی دھارے سے باہر یعنی استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں سے غیر سرکاری مذاکرات کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ لیکن، افغانستان میں طالبان کے ساتھ ہونے والے سلسلہٴ جنبانی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔