اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پراسرار نامعلوم دباؤ پر ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی جعلی ڈگری کا کیس ہٹا دیا ہے.

اسد کھرل نامی شہری نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی جعلی ڈگری کے حوالے سے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی تھی.

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز ڈی جی نیب لاہور کی جعلی ڈگری سے متعلق کیس 12 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا

اس کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ نے کرنا تھی۔

اردو ورلڈ نیوز کو ملنے والی خبروں کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی جعلی ڈگری کا کیس ڈی لسٹ کردیا ہے اور اس سلسلے میں درخواست گزار کو جاری کیا گیا سماعت کا نوٹس بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ رجسٹرار نے ان وجوہات کا ذکر نہیں کیا جن کی بنا پر یہ کیس سماعت سے ہٹایا جا رہا ہے.

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ڈی جی نیب لاہور کی ڈگری پر سوال اٹھایا تھا اور ان سے ڈگری میڈیا پر لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں خصوصی انٹرویو کے دوران شریف خاندان کے افراد کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران کیسز پر بات کی تھی۔

اسی انٹرویو کے دوران انہوں کے اپنی جعلی ڈگری کی طرف بات موڑی اور پھر جواب نہ بن پانے پر سیخ پا ہو گئے.

یاد رہے کہ نیب افسر سلیم شہزاد نے دو ہزار تین میں الخیر یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس سے ڈگری لی جبکہ اس وقت الخیر یونیورسٹی کا اسلام آباد میں کوئی کیمپس موجود نہیں تھا

اس کے علاوہ سلیم شہزاد کی جعلی ڈگری دو ہزار دو میں کیلبری فونٹ میں جاری کی گئی جبکہ مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ، جو کہ دو ہزار چھ میں لکھی گئی، کے بارے میں کہا گیا کہ اس وقت کیلبری فونٹ جاری نہیں ہوا تھا.

This post was last modified on November 10, 2018 11:49 am