جیل سے رہائی کے بعد بھی آسیہ بی بی ملک میں ہیں: حکومت کا دعویٰ

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے رہا کیے جانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

لیکن آسیہ بی بی کی جیل سے رہائی کے بعد متضاد اطلاعات آرہی ہیں۔ ان کے وکیل سیف الملوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ کو ملتان جیل سے رہائی کے بعد محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ پاکستان میں ہیں یا نہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہائی کے بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بیرون ملک منتقل کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے رات گئے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن کوئی جواب نہ ملا۔

تاہم وفاقی حکومت نے اس بات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ آسیہ بی بی اس وقت پاکستان میں ہی موجود ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے کی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع سے یہ خبریں چل رہی ہیں کہ جب تک سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہوجاتا، اس وقت تک آسیہ بی بی بیرون ملک نہیں جاسکتیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے میں ان پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ وہ اس فیصلے کے خلاف نطرثانی کی اپیل کے فیصلے تک بیرون ملک نہیں جاسکتیں۔آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے کے مدعی محمد سالم نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے، تاہم عدالت عظمی کے طرف سے اس اپیل کو ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

قانون کے مطابق نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی وہی بینچ کرتا ہے جس نے اس مقدمے کا فیصلہ دیا ہو۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کو رہا کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

دوسری جانب آسیہ بی بی کی رہائی پر تحریک لبیک پاکستان نے رد عمل میں کہا کہ آسیہ بی بی کی رہائی حکومتی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پورے پاکستان کی فضا آسیہ کی رہائی کی خبر سن کر غم و کرب میں مبتلا ہے۔
معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے بدعہدی کی سیاہ تاریخ رقم کی گئی ہے۔