اپنی تین بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردیا تاکہ ان کی عزت بچ جائے

حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا کہ انہوں نے حال ہی میں لندن کا دورہ کیا اور وہاں پر برٹش لائبریری میں تقسیم ہند پر موجود مواد کا مطالعہ کیا جس میں ان کے سامنے کئی واقعات کی اصل حقیقت کھلی ۔انہوں نے لکھا کہ آزاد کشمیر کے ایک سابق جج محمد یوسف صراف نے ”کشمیریز فائٹ فارفریڈم“ کے نام سے دو جلدوں میں تحریک آزادی کشمیر کی داستان قلم بند کی۔

اس کی جلد دوم میں انہوں نے جموں میں ہونے والے ظلم و ستم کے واقعات عینی شاہدوں کی زبانی بیان کئے ہیں۔ انہوں نے عطا محمد نامی مستری کی کہانی لکھی ہے جو جموں کے محلہ مست گڑھ کا رہائشی تھا۔ عید کا دن آیا تو عطا محمد کو یقین ہوگیا کہ ہندو بلوائی اس کی تین بیٹیوں کو اغوا کر کے ان کی آبروریزی کریں گے۔ اس نے اپنی تین بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردیا تاکہ ان کی عزت بچ جائے۔ یہ منظر دیکھ کر ان تینوں بہنوں کے چھوٹے سے بھائی نے اپنی بہنوں کے خون سے گھر کی دیوار پر یہ نعرہ لکھ ڈالا ”پاکستان زندہ باد“۔

یوسف صراف نے لکھا ہے کہ جموں، کٹھوعہ، اودھم پور اور ریاسی کے علاقوں میں دو لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور 25ہزار سے زائد مسلمان عورتوں کواغوا کیا گیا۔ اغوا شدہ عورتوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا جو مان جاتی اسے زندہ رہنے دیا جاتا جو نہ مانتی قتل کردی جاتی۔

مسلمان عورتوں کو مختلف قید خانوں میں رکھا جاتا اور بعض جگہ پر انہیں ان کے عزیزوں کا گوشت پکا کر دیا جاتا اور کہا جاتا اس انسانی گوشت کو چاولوں کے ساتھ کھاﺅ۔ جموں میں ہونے والے اس ”ہولو کاسٹ“ کے ایک عینی شاہد امان اللہ خان نے 30برس تک اسلام آباد کے امریکی سفارتخانے میں کام کیا۔

انہوں نے ”ٹائٹ روپ واک“ کے نام سے شائع ہونے والی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ کس طرح 5نومبر 1947ءکو جموں کے مسلمانوں کو پولیس لائنز میں جمع کیا گیا اور بہت سی لاریوں میں بٹھا کر سیالکوٹ کی طرف روانہ کیا گیا اور پھر راستے میں تلوار بردار ہندوﺅں نے حملہ کردیا۔ جب ایک ہندو امان صاحب پر حملہ کرنے لگا تو ان کی ماں نے کہا امان بھاگ جاﺅ۔

وہ اپنی ماں کو اکیلا چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھے آخرکار ماں نے بیٹے کو قریب ایک نہر میں دھکا دیدیا۔ نہر میں موجود ایک اور عورت سات سالہ امان کو دوسرے کنار ے پر لے گئی۔ دوسرے کنارے پر پہنچ کر امان نے اپنی ماں کو تلاش کیا تو وہ خون میں نہائی نظر آئی لیکن امان کو اپنی جان بچانے کیلئے دوسروں کے ساتھ بھاگنا پڑا اور پھر انہوں نے اپنی ماں اور چار بہنوں کو کبھی نہیں دیکھا۔