چیف جسٹس ثاقب نثار اور وکیل کے درمیان سخت تلخ کلامی

اردو ورلڈ نیوز – پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک کیس کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار اور وکیل کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی جب کورٹ پاکپتن مزار پر اوقاف کی دکانوں کے ایک کیس کی سماعت کر رہی تھی .

اس کیس میں ثاقب نثار نے 1985 کے وزیراعلی ٰ پنجاب محمد نواز شریف کو نوٹس جاری کر دیا ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انتیس سال قبل محکمہ اوقاف کی اراضی پر دکانیں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی، اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟

پاکستان کی فوج کا خفیہ خط لیک

چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ اس وقت سیکریٹری اوقاف کون تھا؟ انھیں بھی نوٹس جاری کر رہے ہیں؟

عدالت کے سوال پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ وہ سیکریٹری صاحب وفات پا چکے ہیں.

اردو ورلڈ نیوز کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ کس قانون کے تحت نوٹیفکیشن واپس لیا گیا؟

وکیل افتخار گیلانی نے جواب دیا کہ جس اتھارٹی کے تحت مجھ سے جائیداد لی گئی تھی اسی اتھارٹی کے تحت جائیداد واپس بھی دی گئی، انتیس سال بعد سپریم کورٹ کہتا ہے کہ نوٹیفکیشن غیر آئینی تھا۔

وکیل افتخار گیلانی کا جواب سن کر چیف جسٹس آپے سے باہر ہو گئے. ثاقب نثار نے سخت غصے میں کہا کہ ہاں، سپریم کورٹ یہ کہہ سکتا ہے اور سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے، سپریم کورٹ پاکستان کے آئین کا محافظ ہے. لیکن چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہاں قانونی حوالہ نہیں دیا کہ وہ ایسا کس قانون کے تحت کہ رہے ہیں

چیف جسٹس ثاقب نثار کے چلانے پر وکیل افتخار گیلانی بھی غصے میں آگئے اور انہوں نے اونچی آواز میں جواب دیا کہ پاکستان کے عوام پاکستان کے آئین کی محافظ ہیں، سپریم کورٹ بھی آئین اور قانون کے تابع ہے.

مزید پڑھیں

ثاقب نثار نے بےشرمی کی حدیں پار کیں، جنرل مشرف کے ساتھی چیف جسٹس سے چندہ وصول

جسٹس صدیقی اور ثاقب نثار جوڈیشل کونسل میں آمنے سامنے

اسلام آباد ائیرپورٹ: متنازع ثاقب نثار کی مشکوک کرداروں کو بچانے کی کوشش

چیف جسٹس ایک وکیل کی طرف سے سخت جواب پا کر سیخ پا ہوے گئے اور اپنا رعب برقرار رکھنے کے لیے دوبارہ چلاۓ کہ آپ اپنی آواز دھیمی کریں اور لہجہ درست کریں

چیف جسٹس کے دوبارہ چلانے پر وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ میری آواز اور لہجہ ویسا ہی ہوگا جیسا آپ کا ہے

وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ میں ایسی صورتحال میں درخواست کروں گا کہ میرے مقدمات اپنے بنچ میں مقرر نہ کریں

غصے سے بھرے چیف جسٹس نے کہا کہ میں اپنے ہی بنچ میں آپ کے کیسز لگاؤں گا، آپ جب آتے ہے عدالت پر چڑھائی کر دیتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے وکیل کے بارے میں کہا کہ جب سے ان کا آپریشن ہوا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت اور جج ان کے بچے ہیں ۔

پاکپتن دربار کے ساتھ دکانیں بنانے والے 8ہزار سے زائد افراد کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹسز جاری کر دئیے ۔