ملزم ریاض ٹھیکیدار اور دیگر ملزمان پر مقدمہ درج

راولپنڈی (اردو ورلڈ نیوز) پاکستان کے محکمہ اینٹی کرپشن نے جنگلات کی 1170 کینال اراضی پر قبضہ کرنے کے الزام میں بحریہ ٹاؤن، چیف ایگزیکٹو ملزم ملک ریاض ٹھیکیدار اور دیگر ملزمان پر مقدمہ درج کرلیا ہے.

یہ مقدمہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی سفارشات پر تھانہ اینٹی کرپشن سرکل راولپنڈی میں درج کیا گیا۔

ریاض ٹھیکیدار اور دیگر کے خلاف درج اس مقدمے میں دھوکا دہی، سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی، مجرمانہ غفلت اور جعل سازی کی دفعات شامل کی گئیں اور جے آئی ٹی کی تحقیقات کو بھی حصہ بنایا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیں

ملک ریاض کے مبینہ فرنٹ مین کے خلاف کیس راولپنڈی سے لاہور منتقل

ضرورت ہے، ملک ریاض کو

بحریہ ٹاون کے ملک ریاض کا پیپلز پارٹی کے اوپر کے لوگوں سے کیا تعلق ہے؟

مقدمہ محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی تعمیر کرنے پر قائم کیا گیا

اینٹی کرپشن سرکل میں درج مقدمے میں موقف اپنایا گیا کہ 1170 کینال سرکاری زمین کا تبادلہ کرکے ہاؤسنگ سوسائٹی تعمیر کی گئی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض ٹھیکیدار کے خلاف اس سے قبل بھی ’زمین پر قبضے‘ سے متعلق مقدمات درج ہیں لیکن اپنے اثر رسوخ کی وجہ سے اس مقدمات پر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آتی

ریاض ٹھیکیدار کی طرف سے غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کو زمین کی اراضی دینے پر پاکستان کی سپریم کورٹ فیصلہ بھی دے چکی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔

ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو مزید ہدایت دی گئی کہ وہ راولپنڈی میں غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے کو دیکھے۔

راولپنڈی کی مقامی عدالت بھی ملک ریاض کو آئندہ اپنی اسکیموں میں بحریہ ٹاؤن کا نام استعمال کرنے پر روک لگا چکی ہے مگر اس عدالتی حکم پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آیا

”Journalist was murdered”, ”Turkey can search consulate”