پاکستان کے لیے سبق، کیا انڈیا کے فوجیوں کی افغانستان سرزمین میں موجودگی مددگار ثابت ہو گی؟

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ اس خطے میں کسی بھی حکومت، بشمول پاکستان، کے لیے سبق یہ ہے کہ انتہاپسند اور دہشت گرد عناصر طویل مدت میں کسی بھی ملک کے مفاد میں مدد گار ثابت نہیں ہوں گے۔

انھوں نے بی بی سی کی نامہ نگار یوگیتا لِمیے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر اپنی حکومت چاہتے ہیں، اور وہ بالآخر کسی بھی ملک کے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

جرنیلوں کا کیس دیکھ کر جج محمّد بشیر کی ٹانگیں کانپنے لگیں

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’عمران خان نے پاکستان کا وزیرِ اعظم بننے کے بعد کہا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ ’دونوں ملکوں کے تعلقات میں چیلنجز ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم مل جل کر کام کر کے ان کا مقابلہ کر سکیں گے، لیکن یہ صرف دونوں طرف سے مخلصانہ تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘

کیا انڈیا کے فوجیوں کی افغانستان سرزمین میں موجودگی مددگار ثابت ہو گی؟

عمران خان نے منظور پشین سمیت ایم این اے کئی گرفتاری کا حکم دے دیا

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعاون بہت مددگار ثابت ہوا ہے، اور کسی حد تک دفاعی امور پر بھی تعاون ہوا ہے، لیکن افغان سرزمین پر انڈین فوجیوں کی موجودگی پر کبھی بات چیت نہیں ہوئی۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین رابطے ہوئے ہیں، لیکن ان کا مقصد طالبان پر زور ڈالنا ہے کہ وہ افغان حکومت سے بات کریں۔

وہ تھپڑ جس کی ویڈیو نہیں بنی

انھوں نے کہا کہ ’طالبان افغانستان حکومت سے بات نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر وہ جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیرمقدم کریں گے۔‘