وہ تھپڑ جس کی ویڈیو نہیں بنی

چند روز قبل ہی کراچی میں تحریک انصاف کے نو منتخب ممبر صوبائی اسمبلی عمران شاہ نے سر عام ایک شہری کو اپنے ہاتھوں کا ہُنر دکھایا تھا مگر انکی قسمت خراب تھی کہ کسی نامعقول شخص نے موبائل سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی تھی جو کہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔

نواز شریف کیس: عدالت میں سخت مکالمے بازی

اگر یہ وڈیو نہ بن پاتی تو انصاف کو تھپڑ کی گواہی بھی نہ مل پاتی اور قصہ سینہ پیٹ کر صبر و جبر کے گھونٹ پی کر سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہتا۔وقت کے ساتھ ہی اس پر مٹی ڈال دی جاتی۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش آیاہے جہاں طویل عرصے سے سانحہ ماڈل کیس کی سماعت جاری ہے ۔بھری عدالت میں ملزمان کے وکیل نے ایک عینی گواہ کو تھپڑ رسید کر دیا مگر چونکہ اس تھیڑ کی ویڈیو نہیں بن سکی تھی اس لئیے نہ ہی توہینِ عدالت ہوئی اور نہ ہی توہینِ انسانیت۔

یہ وہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کاسوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس تھپڑ کی ویڈیو بن بھی جاتی تو کچھ بھی نہیں ہونا تھا کیونکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں دن دھاڑے لوگوں کو گولیاں ماری گئیں سرکاری سرپرستی میں بربریت کا کھیل کھیلا گیا ۔درجنوں ٹی وی چینلز اس ظلم کو براہ راست دکھاتے رہے۔ ہزاروں فوٹیج اور سینکڑوں ویڈیو موجود ہیں۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ عینی گواہ پیش ہوچکے ہیں مگر کہیں مرکزی ملزمان کو طلب کرنے کے فیصلے محفوظ ہیں تو کہیں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔

سادہ سا سوال ذہن میں بیٹھ گیا ہے کہ اگر جناب چیف جسٹس صاحب کی توجہ ڈیم بنانے پر مرکوز رہے گی تو مظلوموں کو قتلِ عام کا انصاف واپڈا کے دفتر سے ملے گا۔؟کیا مظلوموں کو احتجاج اور دھرنے کے بغیر مروّجہ قانون میں انصاف مل سکے گا یا وہ بھی قانون ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

یہ کوئی عام کیس نہیں ہے۔ عدلیہ کے درست فیصلے سے مثال قائم ہو سکتی ہے کہ امیر اور غریب کے لئیے قانون برابر ہے ۔ چیف جسٹس صاحب ماڈل ٹاؤن میں بھی لہو کا ایک نادیدہ ڈیم موجود ہے جو چندے میں انصاف کا طلبگار ہے،امید ہے آپ اس پر بھی پہرہ دیں گے ۔آپ کی ماتحت عدلیہ میں ایک مظلوم واقعہ کے گواہ کے منہ پر تھپڑ مارا گیا ہے اور میں تو کیا ہر پاکستانی اس کو سہلا رہا ہے ۔