نواز شریف کیس: واجد ضیاء کے بیان میں دوبارہ تضاد

اسلام آباد: نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء کی تضاد بیانی ریکارڈ کرادی۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جو منظور کرلی گئی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ نے پاناما جے آئی ٹی کو اپنی رپورٹ کا والیم 10 سربمہر کرنے کا تحریری حکم دیا تھا؟۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے زبانی کہا تھا لیکن تحریری حکم نہیں تھا، زبانی حکم پر والیم ٹین سیل کیا اور پانچ کاپیاں جمع کروائیں۔

سپریم کورٹ کے ججوں میں ڈیم فنڈ پر اختلافات

خواجہ حارث نے استفسار کیا کہ کیا والیم ٹین سپریم کورٹ میں جمع کرانے کے بعد جے آئی ٹی نے اپنے پاس کوئی کاپی رکھی؟۔ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے اپنے پاس والیم ٹین کی کوئی کاپی نہیں رکھی۔

اس پر خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت میں آپ نے بیان میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی نے ایک کاپی اپنے پاس رکھی۔ خواجہ حارث نے احتساب عدالت میں واجد ضیاء کی تضاد بیانی ریکارڈ کرائی۔ پراسیکیوٹر نیب نے اعتراض کیا کہ کسی دوسرے ریفرنس میں گواہ کے پرانے بیان پر تضاد نہیں نکالا جا سکتا۔

احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔