شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کُن اقدام نہ کرنے پر پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر امداد منسوخ: پینٹاگان

امریکی محکمۂ دفاع نے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ امداد کی منسوخی کی وجہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کُن اقدام نہ کیا جانا ہے۔

‘کولیشن سپورٹ فنڈز’ کی مد میں دی جانے والی اس امداد کی معطلی اُس وسیع حکمتِ کا حصہ ہے جس کا اعلان رواں برس کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے 2018ء کے آغاز میں الزام لگایا تھا کہ ماضی میں پاکستان کو امریکی امداد ”محض جھوٹ اور دھوکہ دہی” پر مبنی کارکردگی کے عوض انعام میں دی جاتی رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان شدت پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا ہے جو سرحد پار کرکے افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔ پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا آیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے پاکستان کے متعلق سخت بیان کے باوجود امریکی حکام نے اس امکان کو رد نہیں کیا تھا کہ اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرتا ہے تو اُس کی امداد جاری رہ سکتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع کے پاس اس بات کا اختیار تھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کر رہا ہے تو وہ پاکستان کو ‘کولیشن سپورٹ فنڈ’ کے تحت دی جانے والی 30 کروڑ ڈالر کی امداد بحال کردیں۔

لیکن ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ ‘جم میٹس اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔”

پینٹاگان کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل کون فالکنر نے بتایا ہے کہ ”پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی حکمتِ عملی کی حمایت میں فیصلہ کُن اقدام نہ کرنے پر باقی 30 کروڑ ڈالر کی امداد معطل کردی گئی ہے۔

فاکنر نے کہا کہ اگر کانگریس منظوری دیتی ہے تو پینٹاگان یہ رقم ”دیگر ضروری ترجیحات” پر استعمال کرے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس سال کے اوائل میں کانگریس نے پاکستان کی مزید 50 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی تھی جس کے بعد روکی گئی کُل رقم 80 کروڑ ڈالر ہو گئی ہے۔