انڈیا کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی چل بسے

انڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جمعرات کو 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کے انتقال کا اعلان نئی دہلی کے ہسپتال میں کیا گیا جہاں وہ گذشتہ دو مہینوں سے زیرِ علاج تھے۔

وہ دہلی کے ایمز ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

واجپئی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے۔

اٹل بہاری واجپئی کا شمار انڈین سیاست کی معتبر ترین شخصیات میں ہوتا تھا، اوہ سنہ 1996 اور 2004 کےت درمیان تین بار وزیراعظم بنے۔

سنہ 1998 میں اپنے دور حکومت میں انھوں نے زیرزمین ایٹمی دھماکوں کے تجربات کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

یہ انڈیا کی جانب سے سنہ 1974 کے بعد پہلے جوہری تجربات تھے۔

یہ جوہری تجربات بین الاقوامی برادری کو مطلع کیے بغیر کیے گئے جس سے وجہ سے بڑے پیمانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم انڈیا میں انھیں ہیرو سمجھا جانے لگا اور ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگا جو ملکی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور بین الاقوامی دباؤ سے نہیں ڈرتا۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے واجپائی کی موت پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو ’ذاتی اور ناقابلِ تلافی نقصان‘ قرار دیا۔

مودی کا کہنا تھا ’انڈیا واجپائی کے چلے جانے کے بعد غمزدہ ہے۔ ان کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ وہ قوم کے لیے جیے اور دہائیوں تک مستقل مزاجی سے قوم کی خدمت کی۔ میری سوچیں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔