عامر لیاقت کیس میں چیف جسٹس کی دکھاوے کی بڑی بڑی بڑھکیں

سپریم کورٹ نے بول نیوز کے اینکر عامر لیاقت کو اشتعال انگیز اور منافرت پر مبنی پروگرام کرنے پر توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کر کے چودہ یوم میں جواب دینے کی ہدایت کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے جیو نیوز/شاہزیب خانزادہ کی عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کی دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔ دونوں درخواستوں میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ عدالت عظمی کے جانب سے اس کو پروگرام جاری رکھنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی ۔ شرط یہ تھی کہ وہ تضحیک آمیز اور منافرت پر مبنی گفتگو نہیں کریں گے ۔ عدالت میں لگی بائیں طرف کی کرسیوں کی درمیانی رو میں عامر لیاقت جبکہ درمیان والی کرسیوں کی قطار کے آخری رو میں شاہزیب خانزادہ بیٹھے ہوئے تھے ۔

عدالت میں عامر لیاقت کے پروگرام کے مختلف ٹوٹے چلائے گئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی کے مطابق ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ کیا ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہئیے جن کو زبان پر اختیار نہیں ہے، عام لوگوں کو ٹی وی کے ذریعے یہ سکھاتے ہیں ۔ عامر لیاقت نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے سخت غصے میں کہا کہ عدالت میں ڈرامہ نہیں چلے گا، اسٹیج پر نہیں کھڑے ۔

عدالت کے سامنے درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیئے ۔ وکیل نے بتایا کہ عامر لیاقت منافرت پھیلانے اور تضحیک کے عادی ہیں، ان کے خلاف پہلے بھی درخواستیں آئیں اور پیمرا نے نوٹس لئے، ان پر پابندی بھی لگی مگر بار بار وہی کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں فوجداری کارروائی نہیں ہو رہی ۔ وکیل نے بتایا کہ یہ نہیں کہہ رہا کہ فوجداری نوعیت کی کارروائی کر کے جرم میں سزا دی جائے ۔ اس کی دو تشریحات ہیں ۔ شاہد اورکزئی کیس میں 2007 میں توہین عدالت کا ایک اصول طے کر دیا گیا ہے، اس کی مختلف جہات ہیں ۔

دوسری طرف عام قیاس کیا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس لاڈلی پارٹی کے دوسرے کیسوں کی طرف اس کیس میں بھی نورا کشتی لڑتے ہوے محض دکھاوے کے لیے بڑی بڑی بڑھکیں مار رہے ہیں اور اس کیس کو بھی چھوٹی موٹی وارننگ کے بعد ختم کر دیا جاۓ گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here