سفاک جنرل راحیل شریف نے یمن میں بچوں کا قتل عام کروا دیا

پاکستان سے غیر قانونی طور پر غیر ملک میں نوکری لینے والے سفاک جنرل راحیل شریف نے شمالی یمن میں معصوم بچوں سے بھری ایک بس پر فضائی حملہ کروا کر کم از کم پچاس بچے ہلاک جبکہ متعدد زخمی کر دیے ہیں

جنرل راحیل شریف کی قیادت میں سعودی اتحاد نے یمنی علاقے صعدہ پر حملے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ کارروائی سعودی شہر جازان پر بیلسٹک میزائل حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کی گئی۔

دوسری جانب ریڈ کراس نے بتایا ہے کہ شمالی صعدہ میں سعودی اتحاد نے بچوں سے بھری ہوئی ایک بس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاک ہوئے۔

ریڈ کراس نے اپنے توئیٹر ہینڈل پر کہا کہ ان کی جانب سے چلائے جانے والے ایک اسپتال میں اب تک 29 بچوں کی لاشیں موصول ہوچکی ہیں جن کی عمریں 15 سال سے کم ہیں۔

ریڈ کراس کے مطابق واقعے میں 48 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 30 بچے ہیں۔

ترجمان ریڈ کراس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد حتمی نہیں کیوں کہ واقعے کے بعد لاشوں کو مختلف اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق حوثی باغیوں کے معاملے پر یمن میں جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک 10 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق بمباری سے ایک اسکول بس بھی نشانہ بن گئی جس میں سوار 50 بچے جاں بحق ہوگئے ۔

عالمی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اسکول بس کے بچوں کی زخمی حالت کی تصاویر اور فوٹیج کی وجہ سے دنیا بھر میں اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس خبر کو لے کر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف اس وقت سعودی اتحادی فوج کی سربراہی کر رہے ہیں

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں یہ بات سامنے ائی کہ جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں نوکری مکمل طور پر پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوے حاصل کی گئی

پاکستانی قانون کے مطابق اگر فوج کا سربراہ اپنی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد کسی دوسرے ملک میں نوکری کرنا چاہے تو اسے حکومت یعنی وفاقی کابینہ سے اجازت لینا ہوتی ہے مگر جنرل راحیل شریف نے غیر قانونی کاروائی کرتے ہوے ایسا نہیں کیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here