ڈنمارک میں مسلم خاتون کےساتھ اس شرمناک اقدام نے انسانیت کاسر شرم سے جھکا دیا

جرمن نیوز کے مطابق اٹھائیس سالہ خاتون کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب وہ ایک مقامی شاپنگ سینٹر میں خریداری کر رہی تھی۔ ڈنمارک میں مکمل چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کے متنازعہ قانون کو ’برقعہ بین‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

پولیس اس نئے قانون کے مطابق اس اٹھائیس سالہ خاتون کے پاس گئی اور اسے کہا کہ وہ یا تو نقاب اتار دے یا پھر جرمانہ بھرے، خاتون نے جرمانہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس نے خاتون کو بتایا کہ اسے ایک ہزار کرونر جرمانہ ادا کرنے ہو گا جس کا نوٹس اسے خط کے ذریعے گھر پر موصول ہو جائے گا۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوپن ہیگن کے شمال میں واقع اس شہر کے شاپنگ سینٹر میں نقاب پوش خاتون کا ایک اور خاتون سے جھگڑا ہوا جس کے بعد وہاں موجود ایک شخص نے پولیس کو فون کر کے اطلاع دی۔

مقامی پولیس کے اہلکار ڈیوڈ بورشیرسن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ لڑائی کے دوران اس خاتون کا نقاب اتر گیا تھا تاہم جب پولیس شاپنگ سینٹر میں پہنچی تو اس خاتون نے دوبارہ نقاب کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تفتیش بھی کی جا رہی ہے کہ کیا جھگڑے میں ملوث دوسری خاتون نے زبردستی نقاب پوش خاتون کے چہرے سے نقاب ہٹایا تھا۔ دریں اثنا دونوں خواتین پر نقص امن کے جرم میں پرچہ بھی کاٹا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here