انڈیا: آسام کے 40 لاکھ باشندے شہریت سے باہر

انڈیا کی حکومت نے آسام کے 40 لاکھ باشندوں کو شہریت سے خارج کر دیا ہے۔ ان باشندوں کو اپنی انڈین شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک اور موقع دیا جائے گا۔ وہ شہریت کے ثبوت میں اپنا جواب 28 ستمبر تک داخل کر سکیں گے۔

آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز یعنی این آر سی کے دفتر میں شہریوں کی دوسری اور آخری فہرست جاری کرتے ہوئے رجسٹرار جنرل آف انڈیا سیلیش نے بتایا کہ ریاست میں مجموعی طور پر تین کروڑ 29 لاکھ باشندوں نے شہریت کے کاغذات داخل کیے تھے۔ ان میں سے دو کروڑ 89 لاکھ شہریوں کے کاغزات درست پائے گئے۔

این آر سی کی اس فہرست کے مطابق آسام کے چالیس لاکھ باشندے ریاست کے شہری نہیں ہیں۔ لیکن یہ باشندے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے اپنا جواب ستمبر کے اواخر تک جمع کر سکیں گے۔

وزارت داخلہ نے ان باشندوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی شہریت کا حتمی فیصلہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا ئے گی۔ حکومت نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ حکام جواب داخل کرنے میں ان کی مدد کریں گے اور ان کے کاغذات کی گہرائی سے چھان بین کی جائے گی۔

این آر سی کی فہرست جاری ہونے کے بعد ریاست کے بنگالی نژاد شہریوں کی آبادیوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ اگرچہ این آر سی نے ابھی اس کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے کہ یہ چالیس لاکھ باشندے کون ہیں۔ لیکن یہاں بنگالی بولنے والنے باشندوں کو خدشہ ہے کہ وہ شہریت کے تنازعے کی زد میں ہیں۔

آسام اس وقت شدید بے یقینی کی گرفت میں ہے۔ ریاست کے بنگالی بولنے والے بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ انھیں شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں سکیورٹی افواج تعینات کی گئي ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے لوگوں سے امن قائم رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔

ریاست میں شہریت کے اندراج کے لیے تین کروڑ، 29 لاکھ لوگوں نے درخواستیں اور کاغزات جمع کروائے ہیں۔ شہریوں کی پہلی فہرست جنوری میں جاری کی گئی تھی جس میں ایک کروڑ، 90 لاکھ لوگوں کے نام شامل تھے۔ حتمی فہرست پیر کو دوپہر تک جاری کی جائے گی جس میں باقی ایک کروڑ 39 لاکھ شہریوں کا فیصلہ ہو گا۔

آسام میں اس وقت طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کتنے لوگوں کو شہریوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

حکومت نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام اس فہرست میں نہیں آئیں گے انھیں اپنا جواب داخل کرنے کے لیے ستمبر تک کا وقت دیا جائے گا تاہم انھیں عدالت میں اپیل کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ وہ اپنے دعوے انھی حکام کو پیش کریں گے جنھوں نے انھیں شہریت سے محروم کیا ہو گا۔

آسام کی تین کروڑ 29 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 90 لاکھ بنگالی نسل کے لوگ شامل ہیں جن میں مسلم بنگالیوں کی اکثریت ہے۔ یہ بنگالی نژاد گذشتہ 100 برسوں کے دوران یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ بی جے پی اور ریاست کی کئی علاقائی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہاں لاکھوں بنگلہ دیشی غیر قانونی طور پر آ کر بس گئے ہیں۔

آسام میں بنگالی مائیگرینٹس کے خلاف کئی بار تحریک چلی اور تشدد بھی ہوا ہے۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز یعنی شہریوں کی فہرست بنانے کا فیصلہ شہریت کے اس تنازعے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔

لیکن شہریوں کو غیر ملکی قرار دینے کے عمل اور طریقے کے بارے میں کئی حلقوں سے سوالات اٹھے ہیں۔ حکومت نے ابھی تک اپنی پالیسی واضح نہیں کی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ وہ کیا کرے گی جنھیں شہریت اور قومیت سے محروم کر دیا جائے گا۔

گوہاٹی ہائی کورٹ کے سرکردہ وکیل امن ودود کا کہنا ہے کہ ریاست میں شہریوں کو ‘مشکوک’ اور ‘غیر ملکی’ قرار دینے کا عمل بہت ہی یکطرفہ ہے۔ ‘الیکشن کمیشن اور بارڈر پولیس کسی کو غیر ملکی اور مشکوک قرار دینے سے پہلے عموماً تفتیش نہیں کرتی۔ اگر کوئی کاغذات جمع کرواتا بھی ہے تو وہ انھیں ملزم قرار دے کر غیر ملکی ٹرائیبیونل بھیج دیتےہیں۔ زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں، غریب ہیں، انھیں انصاف تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ وہ ٹرائیبیونل میں اپنا کیس لڑ نہیں پاتے۔‘

اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ادارے نے گذشتہ مہینے این آر سی کے عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انڈیا کی حکومت کو لکھا تھا کہ ’شہریوں کی فہرست بنانے کا مقصد انڈین شہریوں کو اس میں شامل کرنا ہے لیکن بہت سے حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ مقامی حکام جو اکثر مسلمانوں اور بالخصوص بنگالی نژاد لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں وہ انھیں شہریت کی فہرست سے باہر رکھنے کے لیے جانچ پڑتال کے عمل میں دھاندھلی کرسکتے ہیں۔‘

اقوام متحدہ نے انڈین حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ جن لوگوں کو شہریوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا کیا انھیں حراستی کیمپوں میں قید کیا جائے یا انھیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

دارالحکومت گوہاٹی میں این آر سی کے صدر دفتر سے کچھ ہی دوری پر انڈین فضائیہ کے سبکدوش اہلکار سعد اللہ احمد اپنی فیملی کے ساتھ این آر سی کی فہرست کا بہت بے صبری اور بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں اگر ان کا اور ان کی بیوی بچوں کا نام شامل نہیں رہا تو وہ غیر ملکی قرار دیے جائيں گے۔ ان کا 15 برس کا بیٹا سب سے زیادہ پریشان ہے۔

سعد اللہ اور ان کی فیملی کے سبھی لوگ انڈین شہری ہیں لیکن ان کی ایک بہن کو شادی کے بعد متضاد تاریخ پیدائش درج کرنے سے غیر ملکی ٹرائیبیونل نے انھیں غیر ملکی قرار دیا ہے۔

آسام میں شہریوں کے تعین کے جو ضابطے طے کیے گئے ہیں ان کے مطابق اگر فیملی کا ایک بھی شخص غیر ملکی قرار پاتا ہے تو پوری فیملی شہریوں کی فہرست سے باہر ہو جائے گی۔

سعد اللہ کہتے ہیں ‘میں نے 20 برس تک فضائیہ میں رہ کر ملک کی خدمت کی۔ میری کئی نسلیں یہیں پیدا ہوئیں اور بڑھیں۔ میرے تین بھتیجے فوج میں ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے اپنے ہی ملک میں غیر ملکی قرار دیے جانے کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

مرکزی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جن افراد کے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے انھیں فوری طور پر کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہو گا، ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

سیاسی جماعتوں نے بھی لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے واٹس ایپ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا اور انٹرنٹ پر افواہوں اور جھوٹی خبریں روکنے کے لیے ضروری اقدات کیے ہیں۔

ریاست کے مختلف اضلاع بالخصوص بنگالی نژاد آبادیوں والے اضلاع میں نیم فوجی دستے تعنیات کر دیے گئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here