کیا آئی ایس آئی کے افسران پر غداری کا مقدمہ چلے گا؟

کیا آئی ایس آئی کے افسران پر غداری کا مقدمہ چلے گا؟

پاکستان اور دنیا کے تمام اخبارات کی نظر پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر لگی ہے. انتخابات سے پہلے دھاندلی کی شکایات پر سینکڑوں کالم اور خبریں چھپ چکی ہیں

آج کی اہم ترین پیش رفت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیر جج جناب جسٹس شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوے اہم ترین انکشافات کیے

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ

” آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات کو مینی پولیٹ کرنے میں ملوث ہے، آئی ایس آئی والے اپنی مرضی کے بنچ بنواتے ہیں، آئی ایس آئی والوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے، احتساب عدالت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا؟ عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے، آپ کی حویلی بندوق والوں کے کنٹرول میں ہے

جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ مجھے نوکری کی پرواہ نہیں، یہ کہا گیا کہ یقین دہانی کرائیں کہ مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے ریفرنس ختم کرا دیں گے ، مجھے نومبر تک نہیں ستمبر میں چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی۔

جسٹس شوکت صدیقی نے کہا ہے کہ احتساب عدالت، جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت تھی، کی ساری کاروائی کی نگرانی اسلام آباد ہائی کورٹ کی بجائے آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ کرتی رہی ہے اور ہر شام کو آئی ایس آئی کو بریفنگ دی جاتی تھی

انہوں نے کہا کہ مجھے اپروچ کیا گیا کہ تمہارے خلاف ریفرینس ختم کر کے تمہیں نومبر سے پہلے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بنا دیں گے اگر تم شریف خاندان کے خلاف فیصلوں میں ہمارے ساتھ تعاون کرو۔ میرے انکار پر چیف جسٹس انور کانسی سے آئی ایس آئی کے نمائندے ملے

اور کہا کہ شوکت صدیقی کے پاس شریف فیملی کی اپیل نہیں جانی چاہیے جس ہر چیف جسٹس انور کانسی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ اپیل وہی بنچ سنے گا جس ہر آپ مطمئن ہونگے ”

ملک کی اعلیٰ عدالت کی طرف سے یہ انکشافات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں

یہاں اہم بات یہ ہے کہ ملک کی انٹیلیجنس ایجنسی نے سول معاملات میں کھلی دخل اندازی کی

کیا ان انکشافات کی روشنی میں سول انتظامیہ کے معاملات میں دخل اندازی کرنے پر آئی ایس آئی کے افسران پر غداری کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟

مراد علی ، امریکہ