نواز شریف کے ساتھ ابوظہبی میں کیا ہوا؟

عرفان صدیقی

ایک بار پھر مجھے مجرم قرار دیے گئے نوازشریف اور 8 سالہ قید بامشقت کی سزا یافتہ مریم کے ہمراہ اسی ہیتھرو ائرپورٹ سے لاہور کی اڑان بھرنے کا موقع ملا ۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے لندن میں تھا ۔ روزانہ ہی ہارلے سٹریٹ ہسپتال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں نوازشریف اور ان کے بچے جمع ہوتے اور شام ڈھلنے تک وہیں رہتے۔ میں بھی کوئی گیارہ بجے وہاں پہنچ جاتا اور سہ پہر تک وہاں رہتا۔ ڈاکٹرز وقفے وقفے سے آتے یہ خبر دیتے کہ مصنوعی تنفس کا سہارا ضروری ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے بھی وینٹی لیٹر اتارنا مشکل ہورہا ہے۔ پھر دن میں ایک پھر دو اور پھر تین بار معمولی وقفے دے کر مریضہ کے اپنے نظام تنفس کو آزمایا گیا۔

میں ڈاکٹرز کی یہ رائے روز ہی سنتا کہ مریضہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ ایک دن سنجیدگی سے یہ موضوع زیربحث آیا کہ کب وطن واپس جانا چاہیے۔ مریم اپنی ماں سے بے پناہ محبت اور شدید وابستگی کے باوجود بضد تھی کہ کچھ بھی ہو، پاکستان جانا ضروری ہے۔ میں میاں صاحب کی جذباتی کیفیت کے باعث ان کی ذاتی اور قومی ذمہ داریوں میں توازن تلاش کرتا رہا۔ نصف صدی کی طویل رفاقت نوازشریف کے دل ودماغ میں دھیمی آنچ کی طرح سلگ رہی تھی۔ وہ یہ جملہ کئی بار دہراتے ”بس چاہتا ہوں کلثوم ہوش میں آجائے، ہمیں دیکھ لے، ہم سے دو باتیں کر لے“ لیکن اس دن گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں۔ واپسی کا فوری اعلان ناگزیر ہوچکا ہے۔

اسی دن 13جولائی کی تاریخ بھی طے پاگئی۔ اسی دن مریم نے اس کا اعلان بھی کردیا۔ 11جولائی کو نوازشریف اور مریم نے مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کے ایک انتہائی پرجوش مجمعے سے خطاب کیا اور کھل کر کہا کہ اب ریاست کے اندر ایک اور ریاست کا زمانہ گیا۔ اب ریاست سے بالاتر ایک ریاست وجود میں آگئی ہے، آخر کب تک حکومت کسی کی ہوگی اور حکمرانی کوئی اور کرے گا۔ 12جولائی کی شام روانگی کا دن تھا۔

بہت غوروخوض کے بعد فیصلہ ہوا تھا کہ اتحادائرلائن سے سفر کیا جائے کیونکہ اس کے لاہور پہنچنے کا وقت بہت مناسب تھا۔ خبرعام ہوتے ہی فلائٹ کی مانگ بڑھ گئی اور ٹکٹیں بلیک ہونے لگیں۔ 12 جولائی کو جب میں ہسپتال پہنچا تو باہر گیٹ پر مجھے صحافی دوستوں میں سے ایک نے لپک کر کہا ”مبارک ہو بیگم صاحبہ کو ہوش آ گیا۔ “ اس سے صرف ایک دن پہلے مریم نے تقریباً روتے ہوئے اپنی بہن اسما سے کہا تھا ”امی کو ہوش کیوں نہیں آ رہا، ڈاکٹر ایسے ہی روز تسلیاں دیتے ہیں۔ “ میں مخصوص کمرے میں پہنچا تو کسی چہرے پر خوشی کی وہ لہر نہ دیکھی جو اتتی بڑی خبر سے آنی چاہیے تھی۔ معلوم ہوا کہ بس انہوں نے تھوڑی دیر کو آنکھیں کھولی تھیں۔ کوئی بات نہیں کی۔ کسی بات کا کوئی تاثر بھی نہ دیا۔ البتہ آنکھیں کھولنے کو بھی ڈاکٹر بڑی پیش رفت خیال کر رہے تھے۔

ہسپتال سے ائرپورٹ جاتے ہوئے میں میاں صاحب کی گاڑی میں تھا۔ مریم پچھلی گاڑی میں آ رہی تھیں۔ انہوں نے فون ملا کر اپنے ذاتی ڈاکٹر سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب میری ساری دوائیاں رکھ لی ہیں نا، کم از کم ایک ماہ کی۔ ڈاکٹر نے جی ہاں کہا اور وہ مطمئن ہو گئے۔ ڈاکٹر ان کے ساتھ ہی سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے اس سے نیند کی ایک گولی مانگی، آدھی گولی میں نے بھی لی۔ صبح دم پتہ چلا کہ وہ سو نہیں پائے۔ میں بھی نیند کی گولی کے باوجود اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پا سکا کہ جہاز میں سو سکتا۔

طیارہ وقت کے عین مطابق صبح ساڑھے چھ بجے ابوظہبی اترا اور یہاں سے حیرتوں کا ایک باب شروع ہو گیا۔ حکم ہوا کہ ہم لوگ طیارے میں رہیں۔ سارے مسافر اترنے کے بعد ہمیں اجازت ملی۔ جہاز کے ساتھ تین چار گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سفید براق لمبی عباؤں والے اعلیٰ پروٹوکول افسران اور چاق و چوبند پولیس، میاں صاحب نے قدرے حیرت کا اظہار کیا میں نے بھی کہا کہ اس عزت افزائی کی تہہ میں جانے کیا بھید چھپا ہے۔

ہمیں انتہائی احترام کے ساتھ ایک انتہائی آراستہ پیراستہ مہمان خانے میں لایا گیا جس کے کئی مرصع اور مسجع کمرے تھے۔ کھجوروں اور گرم گرم قہوے سے تواضع کی گئی۔ میاں صاحب آرام کرنا چاہتے تھے۔ میزبانوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس لاؤنج میں آپ کسی کمرے میں آرام کر سکتے ہیں۔ ہم طرحدار میزبانوں کے ہمراہ فرسٹ کلاس لاؤنج پہنچ گئے کوئی کمرہ تو خالی نہ ملا لیکن یہاں قدرے زندگی کی چہل پہل تھی۔

ذرا دیر بعد گمان گزرا کہ شاید ہم پر خصوصی نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ مریم ذرا دیر کو لاؤنج سے باہر نکلیں تو سکیورٹی نے کہرام کھڑا کر دیا معلوم ہوا کہ ہم میں سے کسی کو دائیں بائیں جانا بھی ہے تو سکیورٹی ہمراہ جائے گی۔ درجنوں پاکستانی اور غیر ملکی صحافی بزنس لاؤنج میں سے بار بار رابطے کر رہے تھے۔ انہیں میاں صاحب سے ملنے کی جلدی تھی۔ انہیں بھی روک دیا گیا۔ عام قاعدے کے مطابق بزنس کلاس کا کوئی مسافر ایک سو ڈالر دے کر فرسٹ کلاس لاؤنج میں آ سکتا ہے لیکن اس دن یہ رعایت بھی ختم کر دی گئی اور کسی مسافر کو وہاں آنے کی اجازت نہ ملی۔

میں نے مذاقاً کہا۔ ”میاں صاحب لگتا ہے کہ ہم زیر حراست آ چکے ہیں۔ “ انہوں نے میرے خیال کی تائید کی۔ پروٹوکول کے انچارج کو بلا کر پوچھا۔ ”کیا ماجرا ہے۔ نہ ہم کہیں جا سکتے ہیں نہ کوئی یہاں آ سکتا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے۔ اس نے معصومیت سے کہا۔ ”بس سر! اوپر سے یہی حکم ہے۔ ہم اوپر کے حکم کی منطق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے سوچنے لگے۔ ”کیا ناصر الملک یا حسن عسکری اتنے ہی طاقتور ہو گئے ہیں؟“ ان کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب پتہ چلا کہ ہماری فلائٹ میں کوئی دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی ہے۔ اس کے بعد افواہوں، واہموں اور خدشوں کی آندھی چلی اور دیر تک چلتی ہی رہی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here