چیف جسٹس ثاقب کے رشوت مانگنے کی پوری کہانی باہر آ گئی

چیف جسٹس ثاقب کے رشوت مانگنے کی پوری کہانی باہر آ گئی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں ایک شخص شاکر علی نے ان سے کہا کہ آپ نے بطور سیکرٹری قانون بیس سال پہلے مجھ سے رشوت مانگی تھی

شاکر علی نے عدالت میں یہ انکشاف اس وقت کیا جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے میٹرو بس سروس منصوبہ کیس میں اس کی درخواست نمٹائی اور کہا کہ آپ وہی ہیں جس کی درخواست میں نے سیکرٹری قانون کے طور پر مسترد کی تھی

پومپیو کا باجوہ کو فون، کیا اسلام آباد پر مزید دباؤ آئے گا؟

صحافیوں کو چیف جسٹس ثاقب کے رشوت مانگنے کے بارے میں بتایا

عدالت سے نکالے جانے کے بعد شاکر علی نے صحافیوں کو چیف جسٹس ثاقب کے رشوت مانگنے کے بارے میں بتایا کہ وہ سی ڈی اے کے سابقہ ٹھیکیدار ہیں
سپریم کورٹ میڈیا ڈائس پر گفتگو کرتے ہوئے شاکر علی نے کہا کہ انہیں سی ڈی اے سے 1989 میں سنٹوریس کے قریب ایف ایٹ اور جی ایٹ سروس روڈ کا ٹھیکہ ملا جس کی پونے دو کروڑ ادائیگی کے لئے وہ مختلف سرکاری محکموں اور عدالتوں سے رجوع کرتے رہے، پیمنٹ آج تک وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے نہیں کی۔

ریحام خان کی کتاب کے272 صفحات کس نے لکھے، بھانڈا پھوٹ گیا

شاکر علی نے بتایا کہ 1998 میں میں اپنے ایک پارلیمنٹیرین دوست (جس کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا) کے توسط سے وزیر قانون خالد انور سے ملنے کیلئے وزارت قانون و انصاف گیا _  اس وقت میاں ثاقب نثار سیکرٹری وزارت قانون و انصاف تھے، خالد انور اور ان کا کمرہ آمنے سامنے تھا

Shakir Ali
Shakir Ali

شاکر علی نے چیف جسٹس ثاقب کے رشوت مانگنے کے بارے میں انکشاف کیا کہ ثاقب نثار نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ آپ مجھے پانچ لاکھ دیں میں آپ کا کام کر دوں گا، میری فائل ان کے پاس تھی _ وہاں موجود وزارت قانون و انصاف کے جوائنٹ سیکرٹری سید حکیم اختر ارشاد نے بھی کہا کہ آپ کی فائل میاں ثاقب نثار کے پاس ہے،  میں نے ثاقب نثار  سے پانچ لاکھ بطور رشوت دینے کا وعدہ کیا مگر نہیں دیے، بعد میں میاں ثاقب نثار نے میرے خلاف ایک جھوٹی سمری تیار کرکے صدر اور وزیراعظم کو بھیج دی اور میرا کیس خراب کر دیا

، اس کے بعد مجھے سول کورٹ سے رجوع کرنے کیلئے کہا گیا۔ مختلف عدالتوں کے بعد سپریم کورٹ میں 2008 میں میرے حق میں فیصلہ آیا جس پر عملدرآمد نہیں ہوا، میں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور آخری مرتبہ 22 ستمبر 2017 کو میرے حق میں فیصلہ آیا _ شاکر علی نے الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی پشت پناہی کے باعث سی ڈی اے اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے ۔ شاکر علی کا کہنا تھا کہ میاں ثاقب نثار کے والد نثار ایڈوکیٹ کو میں نے پندرہ لاکھ کے چیک بذریعہ TCS بھیجے مگر وہ نقد رقم کا مطالبہ کرتے تھے ۔

مزید خبریں

چیف جسٹس ثاقب کا بغض، ساتھی جج پر طنز

بھری عدالت میں چیف جسٹس پر رشوت کا الزام، تکرار

عمران خان کھرب پتی: دولت کہاں سے ائی؟

شاکر علی نے کہا کہ میاں ثاقب نثار کے خلاف میرے پاس درجنوں ثبوت ہیں جو میں میڈیا کے ذریعے عوام کو دکھا سکتا ہوں _ شاکر علی نے چیلنج کیا کہ اگر کسی ٹی وی چینل میں ہمت اور ضمیر ہے تو مجھے بلاۓ، میں نے چیف جسٹس کو سرعام رشوت مانگنے والا کہا ہے، ایک غریب بندہ اور کیا کر سکتا ہے