چیف جسٹس ثاقب کا بغض، ساتھی جج پر طنز

سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں پروٹوکول کی گاڑ یوں کے ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی

چیف جسٹس نے سابق جج اور نگران وزیر اعلی دوست محمد خان سے سرکاری گاڑی واپس لینے کا حکم جاری کیا

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نے کہا کہ دوست محمد اب سپریم کورٹ کے جج نہیں رہے گاڑی واپس کریں، اب وہ وزیراعلی اور سیاسی شخصیت ہیں جسٹس ثاقب نے مزید کہا کہ دوست محمد نے کس حیثیت سے گاڑیاں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے طنز کرتے ہوے کہا کہ اب پتہ چلا کیوں (سپریم کورٹ سے ریریٹائرمنٹ پر) فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے تھے

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نے صوبے کے تمام غیر متعلقہ افراد سے گاڑیاں واپس لینے کے احکامات بھی جاری کیے

واضح رہے کہ جسٹس دوست محمد خان کو ریٹائرمنٹ کے موقع پر الوداعی فل کورٹ ریفرنس لینے سے صاف انکار کر دیا تھا

چیف جسٹس ثاقب کی جسٹس دوست محمّد سے عداوت پر پشاور کے وکیلوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی تھی جس پر چیف جسٹس کو وضاحت جاری کرنا پڑی تھی

انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ دوست محمد خان کو سیاسی جماعتوں نے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے صوبے کا نگران وزیراعلٰی مقرر کیا ہے