وانا میں جرگے کی بات ماننے سے امن کمیٹی کا انکار، حالات بدستور کشیدہ

جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا میں مقامی جرگے نے منگل کو مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے امن کمیٹی کو وانا بازار میں آنے سے منع کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق رات گئے امن کمیٹی نے جرگے کی بات ماننے سے انکار کا اعلان کیا جس کے بعد حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق وانا کی امن کمیٹی کے پشتون تحفظ موومنٹ کے علی وزیر کی فوج اور طالبان کے خلاف تقریروں پر شدید تحفظات تھے اور کمیٹی نے علی وزیر کو کئی مرتبہ فون پر انتباہ کیا تھا کہ وہ اُنکے خلاف نہ بولیں۔

گزشتہ ہفتے امن کمیٹی نے علی وزیر کے چچازاد بھائی عارف وزیر کو دھمکی دی تھی کہ وہ علی وزیر کو منع کریں، ورنہ خطرناک نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب عارف وزیر نے علی وزیر کو فون پر اس دھمکی کے بارے میں بتایا تو وہ خود وانا روانہ ہوئے اور سنیچر کی شب (2 جون) کو گورنمنٹ ہائی سکول وانا میں ایک جلسہ منعقد کیا جس میں ساری تقاریر فوج، امن کمیٹی اور طالبان کے خلاف تھیں۔

اس جلسے میں علی وزیر سمیت کل 27 مقررین نے خطاب کیا تھا اور تقریباً سبھی نے پاکستانی فوج اور طالبان کے خلاف تقاریر کیں۔

ذرائع کے مطابق اگلے ہی دن اتوار (3جون) کو سہ پہر کے بعد امن کمیٹی کے مسلح افراد نے علی وزیر اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں پر فائرنگ کی، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے اور انتظامیہ نے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا۔

اگرچہ منگل کو جرگے کی کامیابی کے بعد انتظامیہ نے آج (بدھ) سے کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن آخری اطلاعات آنے تک کرفیو میں صرف شام چار سے چھ بجے تک نرمی ہو گی۔

دوسری جانب انگور اڈہ سے بھی کشیدگی کی اطلاعات آرہی ہیں جہاں پشتون تحفظ موومنٹ کے مطابق اُن کے کارکنوں پر فائرنگ میں کم از کم ایک ہلاک، کئی زخمی اور کئی گرفتار ہوئے ہیں۔

علی وزیر ہے کون؟

علی وزیر
Image captionامن کمیٹی کے مسلح افراد نے مبینہ طور پر علی وزیر اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں پر فائرنگ کی تھی

لمبی مونچھیں، لمبے بال اور پُرجوش طرز خطابت کے مالک 40 سالہ علی وزیر کا تعلق احمدزئی وزیر قبیلے کی ذیلی شاخ یار گل خیل سے ہے۔

وہ ملک مرزا عالم کے صاحبزادے ہیں، جنہیں 22 جولائی 2005 میں ایک حملے میں دو بھائیوں اور دو بیٹوں سمیت ہلاک کیا گیا تھا۔

علی وزیر کے بھائی مزمل وزیر کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں میں اُن کے خاندان کے 13 افراد نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

علی وزیر وزیرستان کے اُن نوجوانوں میں سے ہیں، جو ایک عرصے سے پاکستانی فوج اور اُن کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر شدید تنقید کرتے رہے۔

علی وزیر فروری 2018 میں بننے والی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی اراکین میں سے ہیں۔

گو کہ اب تک اس تحریک کا کوئی سٹرکچر نہیں بنا ہے، لیکن اگر دیکھا جائے تو علی وزیر کو منظور پشتین اور محسن داوڑ کے بعد تھرڈ ان کمانڈ کہا جاتا ہے۔

موومنٹ کے جلسوں میں وہ پاکستانی فوج پر تنقید میں سب سے زیادہ بے باک ہوتے ہیں، اسی لیے پی ٹی ایم کے نوجوانوں میں وہ بہت مقبول ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کا الزام

پشتون تحفظ موومنٹ پاکستانی ریاستی اداروں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ امن کمیٹی کے ذریعے ہی علی وزیر کو مارنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے پشاور میں گذشتہ شب احتجاج کرنے والوں کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ اُن کی تحریک کو پانچ مہینے پورے ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے آج تک نہ ایک گملا توڑا ہے اور نہ ہی کوئی سڑک بند کی ہے، لیکن اُن کے مطابق اگر علی وزیر کو کچھ ہوا تو اُن کی تحریک کوئی اور رخ اختیار کر سکتی ہے۔

پی ٹی ایم پختون پاکستان طالبان
Image captionپختون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ “اُنہوں نے آج تک نہ ایک گملا توڑا ہے اور نہ ہی کوئی سڑک بند کی ہے، لیکن اُنکے مطابق اگر علی وزیر کو کچھ ہوا تو اُنکی تحریک کوئی اور رخ اختیار کر سکتی ہے۔”

وانا کی مقامی انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟

وانا میں مقامی ذرائع کے مطابق مقامی انتظامیہ اس وقت خود ایک خاموش تماشائی بنی نظر آرہی ہے اور حالات کنٹرول کرنے کی ذمہ داری فوج کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر مقامی پولیٹیکل انتظامیہ کچھ بھی کردار ادا کرتی تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔

وانا کے پولیٹیکل ایجنٹ سہیل خان اور اُن کے اسسٹنٹ کامران خان خٹک دونوں تین جون کو وانا میں موجود نہیں تھے۔ بی بی سی نے بارہا اُن سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن کئی موبائل پیغامات بھیجنے اور دو دن مسلسل کال کرنے کے باوجود اُن سے بات کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔

کرفیو کی وجہ عام لوگوں کی زندگی اجیرن

وانا میں کرفیو کا آج چوتھا دن ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم وانا کے صحافی فاروق محسود کے مطابق کرفیو کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں چار گنا اضافہ ہوا ہے اور برف کا ایک بلاک جو عام دنوں میں پانچ سے چھ سو روپے میں مل رہا تھا، اب 1600 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

دوسری جانب وانا کے اکثر لینڈ لائن نمبرز انتظامیہ نے بند کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے وانا سے باہر لوگوں میں اپنے خاندانوں کے ساتھ رابطہ نہ ہونے کی وجہ شدید بے چینی پائی جاتی ہیں