اصغر خان کیس میں نواز شریف کو پیشی کے لیے چھ دن کی مہلت

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اصغر خان کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے چھ روز کی مہلت دے دی ہے۔

اصغر خان کیس فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی جانب سے سیاست دانو ں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس نے جب اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو نواز شریف عدالت میں مو جود نہیں تھے، جس کے بعد عدالت نے نواز شریف کو پیشی کے لیے ایک گھنٹے کی مہلت دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو ہر حال میں شاملِ تفتیش ہونا پڑے گا۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس مقدمے کی گذشتہ سماعت پر رقم وصول کرنے کے سلسلے میں نواز شریف، جاوید ہاشمی، عابدہ حسین سمیت 21 شہریوں کے علاوہ متعلقہ فوجی افسران، ڈی جی نیب اور ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کیے تھے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر فریقین کی جانب سیے یہ الزام نہیں آنا چاہیے کہ انھیں سنا نہیں گیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ نواز شریف ابھی تک عدالت میں حاضر کیوں نہیں ہوئے؟ جس پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا جواب سن کر بینچ کے سربراہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر کہا کہ ٹھیک ہے اگر نواز شریف خود نہیں آنا چاہتے تو وکیل کو بھیج دیں۔

بدھ کو سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے

ان نوٹسز میں نواز شریف اور دیگر افراد کو چھ جون کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔

اٹارنی جنرل کی استدعا پر چیف جسٹس نے نواز شریف کو وکیل کرنے کے لیے چھ روز کی مہلت دے دی۔ عدالت نے اصغر خان کیس پر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت 12 جون تک ملتوی کردی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو جب اس معاملے کی سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیس سے جڑے کون کون افراد عدالت آئے ہیں۔

جس پر انھیں بتایا گیا کہ جاوید ہاشمی موجود ہیں جبکہ خورشید شاہ کے وکیل اعتزاز احسن بھی آئے ہوئے ہیں تاہم نواز شریف موجود نہیں اور وہ احتساب عدالت میں ہیں۔

جاوید ہاشمی سے چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ نے پیسے لیے تھے؟ جس کی جاوید ہاشمی نے تردید کی اور کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ان کا کڑا احتساب کیا گیا اور نہ ایف آئی اے اور نہ ہی نیب کوئی شواہد پیش کر سکی اور ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ اصغر خان کیس میں چھ برس قبل فیصلہ سنا چکی ہے اور یہ معاملہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق ہے۔

سپریم کورٹ نے چھ سال قبل سابق ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست پر دیے گئِے حکم میں کہا تھا کہ حکومت رقم بانٹنے والے مذکورہ فوجی افسران کے علاوہ دیگر ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی کرے