ریہام خان کی انکشافات بھری کتاب آنے سے پہلے ہی تحریک انصاف نے گند اچھالنا شروع کر دیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مشیر عون چوہدری نے دعویٰ کیا ہےکہ ریحام خان نے ان کے سامنے علیم خان نے اپنی فلم کے لیےایک کروڑ روپے مانگے۔

ریحام خان کی متنازع کتاب سے متعلق اپنے بیان میں عون چوہدری نے کہا کہ ریحام خان کو پیسوں اور طاقت کی بہت لالچ تھی اور انہیں پیسے اور طاقت حاصل کرنے کی بہت جلدی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میرے سامنے ریحام خان نے اپنی فلم کے لیے علیم خان سے  ایک کروڑ مانگے اور فلم کے فرنیچر کے قرضے کے لیے پی ٹی آئی پارلیمینٹرین سے لاکھوں روپے مانگے تھے لیکن یہ فرنیچر کبھی واپس نہیں کیا گیا، بس غائب ہوگیا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ دورہ کراچی میں بھی ریحام خان نےایک بزنس مین سےرقم مانگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ریحام خان نے خیبر پختونخوا کے معاملات میں بے جا مداخلت کی اور سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے غیر ملکی کمپنی سے ڈیل کی کوشش کی جب کہ غیر ملکی کمپنی سے کک بیک کے طور پر2 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا جس کے بعد ریحام کے بارے میں عمران خان کو بتانے پر مجبور ہوا۔

عون چوہدری کا کہنا تھاکہ عمران خان نے علم ہونے پر ریحام خان کی تمام اسکیمز پر کام رکوادیا تھا جس کے بعد ریحام خان پر ہسٹیریائی کیفیت طاری ہوگئی۔

انہوں نےکہا کہ ریحام خان نے اپنی آنے والی کتاب میں کیچڑ اچھالی ہے لہٰذا ریحام کی شرارتیں منظر عام پر لانے کا وقت آگیا ہے کیوں کہ ان کی یہ شرارتیں میں نے عمران خان کی شادی کے دوران خود دیکھیں۔

ریحام خان کی کتاب 

2 جون کو تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ریحام خان کی کتاب کی تصنیف و اشاعت کا سارا ڈرامہ حقیقی اپوزیشن کو گرانے کے لیے رچایا گیا اور اس سارے معاملے سے پی ٹی آئی اَپ سیٹ ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی ملاقاتوں کے سارے ثبوت مل گئے ہیں کہ انہوں نے مریم نواز سے ملاقات کی جس کا اہتمام احسن اقبال نے کروایا، اس ملاقات کے ناقابل تردید شواہد نے ساری سازش کا پول کھول دیا ہے تاہم احسن اقبال کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جاچکی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما حمزہ علی عباسی اور گلوکار سلمان احمد کی جانب سے ریحام خان پر کتاب لکھنے کے لیے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ایک لاکھ پاؤنڈز لینے اور احسن اقبال کے توسط سے مریم نواز سے ملاقات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں بھی ایک لاء فرم کی جانب سے ریحام خان کو ان کی کتاب کے حوالے سے قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے