گڈ اور بیڈ طالبان کون ہیں؟

وانا میں طالبان کی موجودگی ایک حقیقت ہے جو ملا نذیر گروپ کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن ملا نذیر کی ہلاکت کے بعد ان کے چار کمانڈروں بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی، عین اللہ، ملنگ اور تاج نے اپنے اپنے گروپس منظم کیے اور وانا سب ڈویژن کو بھی چار حصوں میں تقسیم کیا۔

اس ہر ایک حصے پر ہر ایک کمانڈر کو اپنا کنٹرول حاصل ہے اس کے علاوہ تحصیل خان کا ایک گروپ تحصیل شکائی میں موجود ہے جس کو اپنے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور تحصیل خان گروپ کا ایک دفتر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی موجود ہے۔

اس گروپ نے ملا نذیر کی زندگی میں ایک الگ گروپ کی شکل اختیار کی تھی۔

دوسرے چار کمانڈروں نے آپس میں علاقے کی تقسیم کچھ اس طرح کی کہ صلاح الدین ایوبی کے حصے میں سپین، تنائی، ثمر باغ، موسی قلعہ، ڈوگ، پیر باغ اور کرم کوٹ آئے۔ عین اللہ کے حصے میں کڑی کوٹ، لمن، غواہ خوہ شو کوٹ، ڈب کوٹ اور دژہ غونڈئے آئے۔

اس طرح ملنگ گنگی خیل کے حصے میں دانہ، شاہ عالم، انگور اڈا، خمرنگ اور رغزائی کے علاقے آئے، جبکہ تاج کے حصے میں اعظم ورسک، کژہ پنگہ، کالوتائی، وچہ دانہ اور سرکنڈا آئے۔

وانا بازار اور اس سے متصل علاقوں کو مہینوں کے حساب سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ایک گروپ وانا بازار میں ایک، ایک مہینہ گزارے گا ہر ایک گروپ ہر یکم کو اپنا چارج چھوڑ کر دوسرے کو چارج دے دیتا ہے۔

قبائلیتصویر کے کاپی رائٹAFP

البتہ وانا بازار کی تقسیم میں تحصیل خان کا گروپ شامل نہیں، دیگر چار کمانڈروں کے وانا بازار میں اپنے اپنے دفاتر موجود ہیں اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ ان دفاتر کو امن کمیٹیوں کے نام سےجانتی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق وانا بازار میں 6000 سے زیادہ دوکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ 30 کے قریب سبزی کی دوکانیں بھی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی ذمہ داریاں ان کمیٹیوں کے سپرد ہیں، اس لیے ہر ماہ کے حساب سے ٹیکس بھی یہی کمیٹیاں وصول کرتی چلی آرہی ہیں۔

طالبان فی دوکان 500 روپے ٹکیس وصول کرتے ہیں جو مہینے کے حساب سے 30 لاکھ سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ جو علاقے کسی کمانڈر کے زیر نگرانی ہیں وہ اس علاقے کے تمام معاملات کو بھی نمٹاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق کاروبار یا زمین کے تنازعات میں ہر ایک فریق سے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ اس طرح علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں 13 فیصد ہر ایک ٹھیکیدار طالبان کو تھما دیتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ طالبان کی طرف سے لاگو قوانین کی خلاف ورزی پر بھی بھاری جرمانے دینے پڑتے تھے اور شادی بیاہ کے موقع پر موسیقی بجانے پر 50 ہزار، رات دس بجے کے بعد گھر سے نکلنے پر دس ہزار مقرر ہے۔

قبائلیتصویر کے کاپی رائٹAFP

ان سارے پیسوں کی آمد کی وجہ سے وانا میں عام شہریوں کی نسبت طالبان کی زندگی بہتر سمجھی جاتی ہے اور طالبان کے پاس عام لوگوں کی نسبت گاڑیاں بھی اچھی ہیں اور اکثر کمانڈروں نے تو دو دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ بات اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر ایک کمانڈر ہلاک ہو جاتا ہے تو اس کمانڈنگ کی ذمہ داری اپنے گھر میں کسی کو دے دی جاتی ہے اور وہ اسے اپنی میراث سمجھتے ہیں۔

ان چاروں گروپوں کا آپس میں مضبوط اتحاد و اتفاق ہے اور علاقے میں کسی مزید گروپ کو بننے نہیں دیا جاتا۔

سنہ 2014 میں گلام خون نامی ایک طالب نے ایک الگ گروپ بنانے کی کوشش کی تو چاروں کمانڈروں نے ایک ساتھ ان کے مرکز کو بند کر دیا اور چاروں کمانڈروں کی طرف اس وقت صاف صاف ہدایت جاری کی گئی کہ مزید کسی کو گروپ بنانے کی اجازت نہیں۔

وانا بازار میں ان چاروں کمانڈروں کے دفاتر کے علاوہ ہر ایک کے علاقے میں تربیتی مراکز بھی موجود ہیں۔

سب سے بڑا مرکز بہاول خان ایوبی کا ہے جو تقریباً 12 سو کنال رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جو موسی قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مرکز وانا سکاؤٹس کیمپ سے جنوب کی جانب صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس میں ایک عالی شان بنگلہ، سیب، آڑوں اور خوبانی کے باغات ہیں۔

یہ زمین پیر عادل گیلانی کی ملکیت ہے جس پر ملا نذیر نے 2007 میں قبضہ کیا تھا، جہاں میں مختلف تنازعات کی پیشیاں ہوتی ہیں۔

قبائلیتصویر کے کاپی رائٹAFP

وانا میں لوگ کئی سالوں سے طالبان کی طرف سے زیادتیاں برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں اور کئی دفعہ کسی معاملے پر عزت دار لوگوں کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے دلوں میں طالبان کے لیے غصہ موجود تھا۔

کراچی میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کے بعد پختون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم ) نے سر اٹھایا اور ساتھ ہی وانا میں عام شہریوں نے طالبان کے خلاف بات کرنا شروع کر دیا اور کچھ عرصہ پہلے کمانڈر عین اللہ نے ایک پمفلٹ کے ذریعے موسیقی اور ننگے سر پر پابندی کا اعلان کیا تھا، جس پر عام شہریوں نے شور مچایا اور اس پمفلٹ کو اخبارات میں شائع کیا گیا، جس کے بعد عین اللہ اور مقامی علما پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوگئے اور بتایا گیا کہ ان کا اس پمفلٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

بعد میں طالبان کے خلاف باتوں نے زور پکڑا، مقامی انتظامیہ نے علما اور مالکان پر مشتمل ایک جرگے کے ذریعے طالبان اور عام شہریوں میں تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے اور آخر کار ’پختون تحفظ مومنٹ‘ نے اپنے جلسوں اور سوشل میڈیا پر طالبان کے خلاف بولنا شروع کر دیا اور گذشتہ روز کے واقع سے ایک دن پہلے یعنی دو جون کو وانا سکاؤٹس کیمپ کے سامنے پختون تحفظ مومنٹ کے جلسے میں علی وزیر نے طالبان کو خوب للکارا اور کہا کہ وانا میں مزید لمبے بال والے نہیں چلیں گے۔ جس کے نتیجے میں گذشتہ روز کا یہ واقعہ پیش آیا، چار افراد ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوگئے