رام کی اہلیہ، سیتا جی کی مٹی کے گھڑے سے پیدائش ہوئی

انڈیا میں حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا دعویٰ پیش کیا جاتا ہے جس سے پارٹی کو شرمسار ہونا پڑ رہا ہے۔

حال ہی میں انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے کہا کہ انڈیا میں قبل از مسیح ٹیسٹ ٹیوب بےبی جیسی کوئی نہ کوئی ٹیکنالوجی موجود تھی جسی کی مثال سیتا جی کی مٹی کے گھڑے سے پیدائش ہے۔

ان کے اس بیان کے لیے انھیں سوشل میڈیا پر مسلسل ٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کے مطابق سیتا جی کے متعلق بیان کے لیے دنیش شرما کے خلاف گذشتہ روز بہار کے شمالی ضلعے سیتا مڑھی میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عرضی گذار نے کہا ہے کہ وزیر نے نہ صرف لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ انھوں نے ملک کی ثقافت، وراثت اور رسوم کی توہین کی ہے۔ اس کے متعلق سماعت آٹھ جون کو ہو گی۔

نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے کہا: ‘سیتا جی کی پیدائش تو گھڑے سے ہوئی۔۔۔ اس زمانے میں ٹیسٹ ٹیوب بےبی کا کوئی نہ کوئی پروجیکٹ رہا ہوگا جو جنک جی نے ہل چلایا اور گھڑے سے بے بی نکلی جو سیتا جی بن گئی۔ یہ آج جو ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی ہے وہ رہا ہو گا۔’

سیتا رامتصویر کے کاپی رائٹGEETA PANDEY
Image captionمعروف رزمیہ راماین میں رام اور سیتا کی کہانی درج ہے

ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سنیچر کو بہار کے سابق وزیر اعلی لالو یادو کی بیٹی اور ایوان بالا کی رکن ڈاکٹر میسا بھارتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اسے ‘سیتا جی کی توہین’ قرار دیا اور لکھا: ‘سیتا جی کی توہین پر سنگھی، بھاجپائی، سادھوی، یوگی کو کچھ بھی قابل اعتراض نہیں لگا۔ خواتین کی مخالفت ان کا اصل کردار ہے۔ اسی لیے ‘سیتار رام’ کے خیر مقدم کرنے والے فقرے سے سیتا کو ہٹا دیا اور ‘جے شری رام’ کے نعرے میں بدل دیا۔’

در اصل جمعرات کو دنیش شرما نے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ‘یوم ہندی صحافت’ کے موقعے پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘صحافت کی ابتدا مہابھارت دور میں ہوئی تھی۔’

انھوں اپنے دعوے کے ثبوت میں معروف رزمیہ ‘مہابھارت’ کے واقعے کا ذکر کیا جس میں سنجے نام کے کردار ہستناپور میں بیٹھے دھرتراشٹر کو کرکشیتر میں ہونے والی جنگ مہابھارت کا آنکھوں دیکھا حال سنا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘یہ لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں تو اور کیا ہے؟’

بپلب دیوتصویر کے کاپی رائٹTWITTER
Image captionتریپورہ کے وزیر اعلی بپلب دیو نے دعوی کیا تھا کہ انٹرنیٹ انڈیا کی ایجاد ہے

اسی طرح انھوں نے ایک دوسرے کردار ‘نارد’ کو آج کا ‘گوگل’ قرار دیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے کہا: ‘آپ کا گوگل آج شروع ہوا ہے لیکن ہمار گوگل صدیوں پہلے سے ہے۔ نارد منی معلومات کا خزانہ تھے۔ وہ کہیں بھی پہنچ سکتے تھے اور تین بار ‘ناراین’ کہتے ہوئے کوئی بھی پیغام کہیں بھی پہنچا سکتے تھے۔’

انھوں نے قدیم ہندوستان میں ہوائی جہاز کی موجودگی کا بھی ذکر کیا ہے۔

جب ان کے بیان پر میڈیا میں مذاق اڑنے لگا تو اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ سے ایسے معاملوں میں زبان سنبھال کر بات کرنے کی ہدایت دی۔

در اصل ہندو قوم پرست رہنما اپنے شاندار ماضی کی تصویر کشی کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ قدیم ہندوستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں موجودہ دور سے کہیں آگے تھا۔

ان سے قبل انڈیا کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے نئے وزیر اعلی بپلب دیو نے بھی اس قسم کی بات کہی تھی اور کہا تھا کہ مہابھارت کے زمانے میں سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی موجود تھی اور انھوں نے بھی اپنے دعوے کی صداقت کے لیے سنجے نامی کردار کا ذکر کیا تھا۔

مہابھارت کے کردارتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionوزیر کا کہنا ہے کہ مہا بھارت کی جنگ کے دوران سنجے نے دھرت راشٹر کو جنگ کا آنکھوں دیکھا احوال سنایا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے میں لائیو ٹیلی کاسٹ کا کوئی انتظام تھا

جب دوسرے لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا تو انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا تھا کہ جو ان کا مذاق اڑا رہے ہیں ان میں ‘قوم پرستی کی کمی’ ہے۔

اس سے قبل فروری میں انسانی وسائل کے نائب وزیر ستیہ پال سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ نیوٹن سے صدیوں قبل انڈین منتروں میں ‘لا آف موشن’ کو پیش کیا جا چکا تھا۔

یہی نہیں بلکہ خود انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے چند سال قبل کہا تھا کہ ہندوستان میں صدیوں پہلے کاسمیٹک سرجری اور جینیٹک سائنس موجود تھی۔ اور اس کے لیے انھوں نے بھی معروف رزمیہ مہا بھارت کے کردار کے جنگجو کرن اور ہندو دیوتا گنیش کی مثال دی تھی۔

گنیشتصویر کے کاپی رائٹAFP/GETTY IMAGES
Image captionنریندر مودی نے کہا تھا کہ بھگوان گنیش انڈیا میں پلاسٹک سرجری کی موجودگی کا ثبوت ہیں

انھوں نے کہا تھا: ‘ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ طب کے میدان میں ہمارے ملک نے ایک زمانے میں کیا حاصل کیا کر لیا تھا۔۔۔ ہم سب نے مہابھارت میں کرن کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ ہم ذرا غور کریں تو ہم پائیں گے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں جینیٹک سائنس موجود تھی۔’

انھوں نے یہ بھی کہا تھا: ‘ہم سب بھگوان گنیش کی پوجا کرتے ہیں۔ اس زمانے میں کوئی پلاسٹک سرجن رہا ہو گا جس نے انسانی جسم پر ہاتھی کا سر لگا دیا اور پلاسٹک سرجری کی بنیاد وہیں سے شروع ہوئی۔’

اس طرح کے نہ جانے کتنے دعوے کیے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مور کے آنسو سے مورنی حاملہ ہوتی ہے۔ مور سیکس نہیں کرتا اسی لیے سنیاسی یا تارک الدنیا ہوتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ گائے میں ہزاروں دیوی دیوتا رہتے ہیں اور جب وہ سانس لیتی ہے تو جراثیم مر جاتے ہیں۔

ہندو قوم پرستی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے نہ جانے ایسی کتنی باتیں کہیں جا رہی ہیں جو روزانہ بی جے پی اور قوم پرست جماعتوں کے لیے خفت کا باعث بن رہی ہیں۔