جنرل راحیل اور پاشا بغیر روک ٹوک مگر ایٹمی سائنسدان کا بیرون ملک جانے کیلئے پابندی

پاکستان کے سب سے اہم راز جاننے والے جنرل راحیل اور پاشا بغیر روک ٹوک غیر ملکوں میں نوکریاں کر کے کروڑوں ڈالر سے عیاشیاں کر رہے ہیں

مگر ایٹمی سائنسدان کا ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک جانے اور وہاں نوکری کرنے کیلئے سالوں سے پابندی کا سامنا ہے

 ملک کی مختلف جوہری تنصیبات پر کام کرنے والے سابق سائنسدان نے بیرون ملک جانے کے لیے این او سی کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

ایٹمی سائنسدان محمد ریاض پاشا نے اپنی دائر پٹیشن میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے چیئرمین، اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان جوہری توانائی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین کو فریق بنایا ہے۔

پٹیشنر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 25 سال سے پاکستان کی مختلف جوہری تنصیبات پر سائنسدان کی حیثیت سے تعینات رہے اور پی اے ای سی سے 7 جولائی 2015 کو ریٹائر ہوئے۔

پٹیشنر کے مطابق ریٹائرمنٹ کے وقت انہوں نے بیرون ملک ملازمت کے مواقع ہونے کے باعث ملک سے باہر جانے کے لیے این او سی کے حصول کے لیے درخواست دی تھی جس پر حکام نے نہ صرف ان کو این او سی دینے سے انکار کیا بلکہ ان کے ریٹائرمنٹ پر ملنے والے فوائد بھی جاری نہیں کیے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 2015 میں انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس پر فریق بنائے گئے حکام نے انہیں این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور حکام کی زبانی یقین دہانی پر انہوں نے 28 اپریل 2016 کو مذکورہ پٹیشن واپس لے لی تھی۔

پٹیشنر کا دعویٰ تھا کہ تاہم، حکام نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

پٹیشنر نے استدعا کی کہ عدالت فریق بنائے گئے حکام کو حکم دے کہ وہ، انہیں بیرون ملک جانے کے لیے این او سی اور ان کے بقایاجات جاری کیے جائیں