شبنم کا جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ: تحریک انصاف کے کیا سیاسی مقاصد ہیں؟

پاکستان میں سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا نیا نہیں ہے مگر انتخابات کے آتے ہی ایسے جعلی اکاؤنٹس کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔

گذشتہ دنوں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین کے ساتھ فاروق بندیال کی تصویر کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی۔

اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے فاروق بندیال کی رکنیت معطل کر دی مگر اسی دن ٹوئٹر پر اچانک سے جھرنا باسک کے ہینڈل سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سامنے آیا جس میں عمران خان کی تعریف کی گئی۔

جھرنا باسک پاکستانی سینیما پر راج کرنے والی ماضی کی معروف اداکارہ شبنم کا اصل نام ہے جو ان دنوں ڈھاکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔

اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ پہلی ٹوئٹ تھی جس سے اندازہ ہوا کہ یہ اسی دن بنایا گیا ہے۔

پہلی ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ‘میں عمران خان کی تعریف کرتی ہوں کہ انہوں نے فاروق بندیال کو اپنی جماعت سے نکال دیا اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں اس ریپسٹ کے خلاف آواز بلند کی۔ جیتے رہیں۔’

اس ٹویٹ پر چند لوگوں نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ یہ شبنم کی نہیں بلکہ کسی ‘ٹرول ڈاکٹر’ کی ہے جو کبھی ڈاکٹر قدیر خان بن کر اور کبھی رانی مکرجی بن کر لوگوں کو ٹوئٹر پر بے وقوف بناتا ہے۔

اس پر بی بی سی بنگلہ سروس کے ولی الرحمٰن نے ڈھاکہ میں شبنم کے گھر فون کیا اور ان کی بات شبنم کے بیٹے رونی گھوش سے ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ’شبنم ان دنوں کافی علیل ہیں اور اس حالت میں نہیں ہیں کہ میڈیا سے بات کرسکیں۔‘

رونی نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ان کی والدہ نے کبھی ٹوئٹر استعمال کیا اور ‘جھرنا باسک‘ کے نام پر چلائے جانے والے اکاؤنٹ کا اُن کی والدہ شبنم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔’

شبنم کی جعلی ٹویٹتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

رونی گھوش نے مزید کہا کہ ان کی والدہ کا نام استعمال کرنے کے پیچھے ’سیاسی ایجنڈہ ہو سکتا ہے۔’

مگر پاکستان کے چند مقامی ٹی وی چینلز نے اسے سچ سمجھ کر اس پر ایک پوری خبر بھی چلائی جو اب بھی ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس

اس معاملے پر چند اور اکاؤنٹس نے بھی ایک جیسی ٹویٹس کیں جن پر تحقیق سے پتا چلا کہ وہ سب بھی جعلی ہیں۔

کیونکہ نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی مگر یہ جعلی اکاؤنٹس چلانے والے نے ایک ہی ٹویٹ مختلف اکاؤنٹس سے جاری کی جس سے شک ہوا کہ قصہ جعلسازی کا ہی ہے۔ یہ جعلی اکاؤنٹس کون سے کیں؟

ایاز امیر @AyazAmirPAK

کالم نگار ایاز امیر کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ کافی عرصے سے چل رہا ہے جس نے فاروق بندیال والے معاملے پر بھی ٹویٹ کی۔

ٹویٹ میں لکھا کہ ‘عمران خان اور پی ٹی آئی کا اچھا فیصلہ ہے فاروق بندیال کو عوامی ردِعمل پر 24 گھنٹے کے اندر اندر پارٹی سے نکال باہر کرنے کا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی سیاسی جماعت بھی ہے جو پبلک کے ردِعمل پر کارروائی کرتی ہے۔ انہیں کسی کو بھی پارٹی میں جگہ دینے سے پہلے تحقیق کرنی چاہیے۔’

جب بی بی سی نے ایاز امیر سے رابطہ کیا اور اس اکاؤنٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ ‘اکاؤنٹ ان کے نام پر کیا لکھ رہا ہے۔’

سہیل وڑائچ @Sohail_Waraich1

سہیل وڑائچ سے منسوب اکاؤنٹتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے نام پر چلنے والے اس اکاؤنٹ نے بھی فاروق بندیال والے معاملے پر ٹویٹ کی۔

سہیل وڑائچ خود ٹوئٹر پر موجود ہیں جہاں ان کا ویریفائڈ اکاؤنٹ موجود ہے۔ اور انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ ان کا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

اعتزاز احسن @SenatorAitzaz

اعتزاز احسن کے نام سے چلنے والا یہ جس کے دس ہزار فالور ہیں بھی جعلی اکاؤنٹ ہے۔

جنرل اسد درانی @GenDurrani

جنرل اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی کے موقع ہر اچانک سے یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ نمودار ہوا جس میں جی ایچ کیو جانے کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ جنرل درانی نے اس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا جس کے بعد ٹوئٹر نے اسے معطل کر دیا۔

رانی مکھرجی

بالی وڈ کی معروف اداکارہ کے نام سے بھی کئی ٹوئٹر اکاؤنٹ چلائے گئے جن میں حیرت کی بات ہے کہ انڈیا، بالی وڈ کی بجائے آرمی پبلک سکول پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی کارکردگی اور اسلام کے بارے میں باتیں لکھی جاتی رہیں۔

پاکستان کے چند اخبارات نے اسے اصل سمجھ کر یہ خبریں تک چلائیں کہ رانی اسلام کی جانب مائل ہو رہی ہیں یا مسلمان ہونے والی ہیں۔

رانی کی ٹیم نے بی بی سی کے پوچھنے پر اس بات کی تردید کی کہ ان کا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے