حسین حقانی ملاقات کے بعد ریحام کی کتاب پر عمران سخت پریشان

عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی ملاقات کی تصاویرسوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں ،لوگوں کی بڑی تعداد ان تصاویر پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہے۔

خبریں ہیں کہ ریحام خان اپنی کتاب کی باقاعدہ تقریب رونمائی اگلے ہفتے لندن میں کر رہی ہیں اور اسی سلسلے میں آج کل لندن میں مقیم ہیں ،لیکن کتاب کی تقریب رونمائی سے قبل ہی ان کی حسین حقانی سے ملاقات کی تصاویر سے مختلف حلقوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئی ہیں ۔

عام انتخابات 2018سے قبل سیاسی منظر نامے پر دو ایسی کتابوں کا تذکرہ جاری ہے جن کا بلواسطہ یا بلا واسطہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ہے ،جس میں ایک ریحام خان کی کتاب ہے جس کی آمدجلد متوقع ہے جبکہ دوسری کتاب جو منظر عام پر آچکی ہے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کی کتاب ہے جس پربحث ومباحثہ جاری ہے ۔
حسین حقانی، ریحام خان اور نئی کتاب

اس کتا ب کی اشاعت سے قبل حسین حقانی سے ریحام خان کی ملاقات کی تصاویر پر  مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کتاب کا پہلے سے ہی شدت سے انتظار ہے ،حسین حقانی کے ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد اس کتاب کے آنے کی شدت اور بڑھ گئی ہے۔

ریحام خان کی کتاب پاکستانی قارئین کی سہولت کےلئے اردو میں بھی شائع کی جائے گی، مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ریحام خان کی کتاب شائع ہونے کے بعد عمران خان کو سیاسی طور پر شدید دھچکا لگنے کا امکان ہے اور اسی مناسبت سےاس کتاب کی رونمائی کیلئے یہ وقت چنا گیا ہے۔

ریحام خان کی اس کتاب کے حوالے سے ماضی میں حنیف عباسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ریحام خان کی کتاب میں ایسے انکشافات ہونگے جس سے عمران خان کی بچت نہیں ہوگی ،انہیں اس کتاب سے ڈرنا چاہیے ،اگر یہ کتاب آ گئی تو مجھے یقین ہے کہ عمران پاکستان میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔

حنیف عباسی کے اس بیان کے بعدایسی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں جس میں کہا گیاتھا کہ ریحام خان کی اس کتاب کی اشاعت میں مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل ہے؟ ان پرسوالات بھی اٹھائےگئے تھے ۔

دوسری جانب اس کتاب کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہےکہ ریحام خان اپنی کتاب کے حوالے سے بیٹے کو اہم وصیت کر چکی ہیں کہ ’’بیٹےاگر میں دنیا میں نہ رہوں تو میری سرگزشت کتاب کی شکل میں قوم کے سامنےضرور لانا‘‘ ۔

ریحام خان نے یہ وصیت اس وقت کی تھی جب انہوں نے دھمکیوں کے بعد پاکستان چھوڑدیا تھا ،اس دوران انہوں نے بتایا تھاکہ انہوں نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں بہت سے لوگوں کا پول کھل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے برے واقعات دونوں ہی انسان کو سبق سکھاتے ہیں۔ مجھے زبان کھولنے پر دھمکیاں ملتی ہیں، وقت آ گیا ہے کہ میں قوم کو سچ سے آگاہ کروں۔

ان کا کہنا تھا کہ کتاب لکھ چکی ہوں صرف مناسب وقت کا انتظار ہے۔