اصغر خان کیس: چیف جسٹس ثاقب نثار کی متنازع ویڈیو، روس اور چین کے خفیہ مزے

چیف جسٹس ثاقب نثار کی متنازع ویڈیو آنے کے بعد روس اور چین میں دو ہفتے تک خفیہ مزے کرنے کے بعد تازہ دم چیف جسٹس پاکستان نے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے؟

جہاں ایک طرف چیف جسٹس نے معلومات نہیں دیں کہ وہ عوام کے کروڑوں روپے پر دو ہفتے تک روس اور چین کیا کرتے رہے

وہاں دوسری طرف اصغر خان کیس میں ملزمان (سابق آرمی چیف اور فوجی حکام) ماننے کو تیار نہیں کہ انہوں نے پیسہ دیا اور یہ ثابت بھی نہیں ہوا کہ سیاستدانوں نے پیسہ وصول کیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران پیسے وصول کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلین کو نوٹس جاری کردیئے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی  اے کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے؟

 سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے نواز شریف، عابدہ حسین، جاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین، اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران اور ڈی جی نیب اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوے 31 مئی کو سماعت کے دوران حکومت کو اسی شام تک کی مہلت دیتے ہوے چیف جسٹس نے وفاقی کابینہ پر دباؤ ڈالا کہ اصغر خان کیس پر سول اداروں کو حکم جاری کیا جاۓ اور زبردستی تحقیقات کروائی جاۓ

اس سلسلے میں وفاقی کابینہ نے اپنے آخری اجلاس میں اصغر خان کیس پر عملدرآمد سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کے بارے میں قرار دیا کہ عدلیہ، پراسیکیوشن اور انویسٹی گیشن کے ادارے اپنی کارروائی میں آزاد ہیں اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں

گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے انہیں آج طلب کیا تھا، تاکہ وہ عدالت عظمیٰ کو وفاقی کابینہ کی رپورٹ سے آگاہ کریں۔

اصغر خان کیس ہے کیا؟

بینظیر بھٹو حکومت کو گرانے کے بعد ١٩٩٠ ء کی انتخابی مہم کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران پاک فوج نے اسلامی جمہوری اتحاد بنوا کر اس میں شامل جماعتوں اور رہنماؤں میں پیسے تقسیم کیے

اس حوالے سے ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، یہ کیس پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔

خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنماؤں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔

پیسے دینے والوں میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی کے علاوہ اور بہت سے فوجی حکام شامل تھے

پیسے لینے والوں میں غلام مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہےیاد رہے کہ اصغر خان کیس میں ملزمان (سابق آرمی چیف اور فوجی حکام) ماننے کو تیار نہیں کہ انہوں نے پیسہ دیا اور دوسری طرف یہ ثابت بھی نہیں ہوا کہ سیاستدانوں نے پیسہ وصول کیا