سنجرانی ڈاکٹرائین کو آئندہ انتخابات میں دہرائے جانے کی بات کا کیا مطلب ہے؟

آصف فاروقی

نگران وزیراعظم ناصر الملک وزارت عظمٰی کے عہدے پر زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک تعینات رہ سکتے ہیں کیونکہ آئین میں ان کی مدت میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کی تقریب حلفِ برداری میں موجود افراد میں سے بیشتر کو اس بات کا یقین نہیں تھا۔

جمعے کی صبح ایوان صدر کے دربار ہال میں ہونے والی اس تقریب میں سیاست دانوں کی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے بعض رہنماؤں اور چند سابق ارکان قومی اسمبلی کے علاوہ صرف وہی سیاسی رہنما اس تقریب میں دکھائی دیے جو آئینی اور بعض سرکاری عہدوں پر تعینات ہیں۔

اس تقریب سے سیاستدانوں کی عدم موجودگی اس لیے بھی محسوس کی گئی کہ عمران خان سمیت تمام اہم سیاستدانوں کو نامزد نگراں وزیر اعظم کی خواہش پر باقاعدہ دعوت نامے ارسال کیے گئے تھے۔

سیاست دانوں کی عدم موجودگی میں اس تقریب میں سب بڑا طبقہ سرکاری افسروں کا تھا جو مسلح افواج کے سربراہوں اور سفارتی نمائندوں سے قربت اور صحافیوں سے فاصلہ رکھنے کی کوشش میں دکھائی دیے۔

وجہ اس کی یہ تھی کہ صحافی ہر کسی سے یہی پوچھتے پھر رہے تھے کہ کیا تین مہینے کے اندر اندر یہی محفل دوبارہ سجتی دکھائی دے رہی ہے یا نہیں؟

کسی نے اس سوال کا جواب دیا کسی نے نہیں دیا لیکن اس سوال کے جواز کو کسی نے بھی چیلنج نہیں کیا۔

تقریباً اتفاق رائے پایا گیا کہ یہ سوال بلا جواز نہیں ہے۔ بلوچستان اسمبلی سے عام انتخابات کے التوا کے لیے منظور کی گئی قرارداد کے حق میں ٹھوس جواز سامنے نہیں آ سکا۔

ایک افسر عالمی درجہ حرارت اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں حال ہی میں ایک کانفرنس سے لوٹے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جولائی اور اگست میں بلوچستان کے درجہ حرارت میں ایک درجے کا فرق ہو گا۔

یعنی یہ جواز کہ موسم جولائی میں گرم ہو گا اور ایک ماہ بعد ٹھیک ہو جائے گا، درست نہیں ہے۔

بارشیں اس برس مون سون میں اوسط سے کم رہیں گی لہٰذا سیلاب کا امکان اس برس بہت ہی کم ہے، اور وہ بھی جولائی میں۔

رہی بات حج پر جانے والوں کی تو پہلی بات بیشتر افراد 25 جولائی کے بعد جائیں گے اور اگر چلے بھی جائیں تو ایک اور ماہر کے بقول ہر حلقے سے اوسطاً سات سو حاجی ووٹ ڈالنے سے محروم رہیں گے۔ اب ان سات سو لوگوں کے لیے ملکی آئین کی خلاف ورزی کا کیا جواز؟

یہ بھی ذکر ہوا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے بیان کے بعد عام انتخابات ملتوی کرنے کی بات اب محض سازشی نظریہ نہیں رہ گئی۔ بات سازشی نظریے کی ہو رہی تھی کہ اچانک ہال میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی داخل ہوئے۔

اب یہ محض اتفاق تھا یا پہلے سے طے شدہ منصوبہ کہ صادق سنجرانی ہال میں داخل ہوئے اور سیدھے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نشست پر پہنچے جنھوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور سیلیوٹ پیش کیا۔

اس تقریب کے آداب یہ ہیں کہ تقریب شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے مہمان دربار ہال میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اس دوران مسلح افواج کے سربراہان ایک مقررہ وقت پر ایوان صدر پہنچنے ہیں اور ایک کمرے میں جمع ہوتے ہیں۔ جب یہ تینوں سربراہان افواج پہنچ جاتے ہیں تو تقریب کے باقاعدہ آغاز سے پانچ منٹ قبل ہال میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی آمد سے قبل اعلان کیا جاتا ہے کہ تمام مہان اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionیہ محض اتفاق تھا یا پہلے سے طے شدہ منصوبہ کہ صادق سنجرانی ہال میں داخل ہوئے اور سیدھے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نشست پر پہنچے

مسلح افواج کے سربراہان کی آمد کے بعد صدر پاکستان اور نامزد وزیراعظم تقریب میں داخل ہوتے ہیں، قومی ترانہ بجتا ہے، حلف ہوتا ہے اور تقریب ختم۔

لیکن اس بار کچھ مختلف ہوا۔ مسلح افواج کے ہال میں آنے کے بعد چیئرمین سینیٹ ہال میں داخل ہوئے اور یوں سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

ایک سفارت کار نے اپنے بے تکلف صحافی دوست سے پوچھا: ’سنجرانی ڈاکٹرائین کو آئندہ انتخابات میں دہرائے جانے کی بات کا کیا مطلب ہے؟‘